رسائی کے لنکس

logo-print

سلامتی کونسل کی افغانستان میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت


فائل

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں منگل کے روز ہونے والے دو الگ الگ دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں 44 افراد ہلاک ہوئے۔

دارالحکومت کابل کے ایک ہسپتال میں ہونے والے حملے میں 20 جبکہ کہ ننگرہار صوبہ میں ایک جنازے پر ہونے والے حملے میں 24 جانیں ضائع ہوئیں۔

دہشت گردی کے یہ حملے ماہ رمضان میں ہوئے۔ ننگرہار صوبے میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری دہشت گرد گروپ، داعش نے قبول کی ہے۔

افغان حکومت اور دہشت گردی کا نشانہ بننے والے افراد کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے، سلامتی کونسل کے اراکین نے ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے کرونا بحران کے دوران جنگ بندی کی اپیل کا اعادہ کیا۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ دہشت گردی کسی بھی صورت میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کیلئے خطرے کا باعث ہے۔

انھوں نے کہا کہ جان بوجھ کر نوزائیدہ بچوں، ماوں اور صحت عامہ کے ورکرز کو نشانہ بنانا انتہائی مکروہ، بہیمانہ اور قابل مذمت فعل ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان گھناؤنے اور بزدلانہ حملوں میں ملوث حملہ آوروں، اور ان کی مالی یا کسی طرح سے بھی مدد کرنے والے افراد کا احتساب کیا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے تمام ملکوں سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس سلسلے میں افغان حکومت کی مدد کریں۔

سلامتی کونسل کے اراکین نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی مجرمانہ کارروائی ہے اور ایسے واقعات کا کوئی بھی جواز نہی ہوسکتا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ملکوں کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق، مہاجرین اور انسانی ہمدردی کے قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے، دہشتگردی کا مقابلہ کریں، تاکہ دہشتگردوں کی جانب سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹا جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG