رسائی کے لنکس

logo-print

کابل: صدارتی انتخابات، پولنگ سے دو روز قبل انتخابی مہم ختم


افغانستان میں ہفتے کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات سے دو روز قبل، امیدواروں نے قانون کے مطابق بدھ کے دن دو ماہ سے جاری انتخابی مہم بند کر دی ہے؛ ایسے میں جب تشدد، دھاندلی اور ووٹنگ کے دوران امکانی افراتفری سے متعلق تشویش بڑھ رہی ہے۔

صدر اشرف غنی کے مخالفین نے ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرتے رہے ہیں۔ اشرف غنی دوسری میعاد صدارت کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ سرکردہ رہنماؤں میں سے ایک ہیں، جو گذشتہ پانچ برس سے غنی کے ساتھ اقتدار میں شراکت دار رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ اشرف غنی ہار رہے ہیں۔ ’’وہ دھاندلی کی چال سے جیتنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن، ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے‘‘۔

صدارتی امیدوار گلبدین حکمت یار سابق جنگجو سردار ہیں۔ انھوں نے غنی کی امن سمجھوتے کی پیش کش قبول کی تھی۔

انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر انتخابات صاف و شفاف نہیں ہوتے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

ایسو سی ایٹڈ پریس کو انٹرویو میں، گلبدین حکمت یار نے کہا کہ دھاندلی ہوئی تو ’’صورت حال سب کے کنٹرول سے باہر نکل جائے گی، اور حکومت نا ہی غیر ملکی افواج کا صورت حال پر کنٹرول رہے گا‘‘۔

کابل میں اپنے حامیوں سے بات کرتے ہوئے، حکمت یار نے خبردار کیا کہ انتخابی دھاندلی کا الزام لگنے پر تشدد کی آگ بھڑک اٹھے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG