رسائی کے لنکس

logo-print

انتخابات میں دھاندلی کے سنگین نتائج ہوں گے، عبداللہ عبداللہ


فائل فوٹو

افغانستان کے صدارتی انتخابات کے امیدوار اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے تنبیہ کی ہے کہ 2014 کے صدارتی انتخابات جیسے معاملات دوبارہ دہرائے گئے تو لوگ برداشت نہیں کریں گے۔ انتخابات میں دھاندلی افغانستان کو بحرانی کیفیت میں ڈالنے کی وجہ بن سکتی ہے۔

وہ انتخابات میں خواتین کے کردار پر ہونے والی ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ کابل میں ہونے والی اس کانفرنس میں سینکڑوں خواتین شریک تھیں۔

کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کا مستقبل شفاف انتخابات سے مشروط ہے۔

افغانستان کے صدارتی انتخابات رواں سال 28 ستمبر کو ہوں گے جس میں عبداللہ عبداللہ اور موجودہ افغان صدر اشرف غنی سمیت 18 دیگر امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی کے سخت حریف تصور کیے جاتے ہیں۔ سال 2014 میں ہونے والے افغانستان کے صدارتی انتخابات میں بھی دونوں کلیدی اُمیدواروں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ میں سخت مقابلہ ہوا تھا۔

وہ انتخابات دھاندلی اور بدنظمی کے الزامات کے باعث تنازعات کی زد میں رہے تھے۔ دھاندلی کے سنگین الزامات سے انتخابات کے متنازعہ ہونے کے باعث انتقالِ اقتدار کا عمل کئی ماہ تاخیر کا شکار رہا تھا۔

بعد ازاں امریکہ کی ثالثی سے افغانستان میں ایک قومی حکومت قائم ہوئی تھی جس میں اشرف غنی صدر اور ان کے حریف امیدوار عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو بنے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG