رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی صدارتی امیدوار افغان جنگ پر بات کرنے سے گریزاں


اوباما کہتے ہیں کہ امریکہ کے اگلے اقدام کا فیصلہ اُن کے پیش کریں گے۔ تاہم، نہ تو ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نا ہی ری پبلیکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بارے میں کسی منصوبے کا کوئی خاکہ پیش کیا ہے۔ درحقیقت، گذشتہ ایک برس کے دوران کسی بھی امیدوار نے اس لڑائی کا شائد ہی کوئی ذکر کیا ہو

صدر براک اوباما کی پہلی صدارتی انتخابی مہم کے دوران، اُس وقت سینیٹر نے دلیل پیش کی تھی کہ عراق پر امریکی حملے کے نتیجے میں افغانستان کی لڑائی نظرانداز ہو رہی ہے۔

سنہ 2008 میں اوباما نے کہا تھا کہ ’’اور یہی وجہ ہے کہ صدر منتخب ہونے پر میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف لڑائی کو اولین ترجیح دوں گا جس کی وہ حقدار ہے‘‘۔

آٹھ برس بعد، جب افغانستان میں 100000 فوج تعینات کی گئی اور پھر اسے 10000 سے بھی کم کردیا گیا، اب جنگ ’’جیتنے‘‘ کی بات کم ہی کی جاتی ہے۔

حکومتِ افغانستان طالبان باغیوں کے پھر سے مجتمع ہونے کے عمل کا مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اور اوباما کہتے ہیں کہ اس ضمن میں امریکہ کے اگلے اقدام کا فیصلہ اُن کے پیش کریں گے۔ تاہم، نہ تو ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نا ہی ری پبلیکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بارے میں کسی منصوبے کا کوئی خاکہ پیش کیا ہے۔ درحقیقت، گذشتہ ایک برس کے دوران کسی بھی امیدوار نے اس لڑائی کا شائد ہی کوئی ذکر کیا ہو۔

ٹرمپ، کلنٹن اور افغان پالیسی

حالانکہ امریکہ نے افغانستان میں امریکی فوجوں کی تعداد میں ڈرامائی کٹوتی کر دی ہے، امریکہ اس میں کافی حد تک ملوث رہا ہے۔

صدر اوباما نے مالی سال 2017 میں افغان سلامتی افواج کے لیے رقوم مختص کرنے کے لیے 3.45 ارب ڈالر کا فنڈ مانگا ہے۔ اُنھوں نے اس بات کی سفارش کی ہے کہ سال 2020 تک اُن کے پیش رو رقم کی اِسی سطح کو جاری رکھیں۔ امریکی فوج کے تربیت دہندگان افغان فوجوں کو مشاورت فراہم کر رہے ہیں جب کہ امریکی لڑاکا طیارے میدانِ جنگ میں لڑنے والے افغان دستوں کی مدد کر رہے ہیں۔

ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ اوباما کے فوج کے انخلا کے فیصلے کی حامی ہیں، تاہم اُنھوں اِس بارے میں کسی قسم کی متبادل سوچ پیش نہیں کی کہ صدر بننے پر وہ کیا کرنا چاہیں گی۔

گذشتہ نومبر میں داعش کے شدت پسند گروپ پر مرکوز اپنے ایک خطاب میں، اُنھوں نے تجویز دی تھی کہ افغانستان کو اپنی سکیورٹی کی زیادہ ذمہ داری سنبھالنی ہوگی۔

کلنٹن نے کہا کہ ’’اگر ہم نے گذشتہ 15 برسوں کے دوران عراق اور افغانستان کی جنگوں سے کوئی بات سیکھی ہے تو وہ یہ ہے کہ مقامی لوگ اور ملک ہی اپنی برادریوں کو محفوظ بناسکتے ہیں۔ ہم اُن کی مدد تو کر سکتے ہیں، جو ہمیں کرنی چاہیئے، لیکن ہم اُن کی جگہ نہیں لے سکتے‘‘۔

پالیسی پر مبنی اپنی تقریر میں کلنٹن نے لڑائی کا کوئی ذکر نہیں کیا، جب اُنھوں نے صدارتی امیدوار کے طور پر پارٹی کی پیش کش قبول کی۔ اُن کی انتخابی مہم کی ویب سائٹ پر، جس میں وسیع جہتی معاملات سے متعلق پالیسی اعلانات درج ہیں، افغانستان کے بارے میں کوئی مؤقف موجود نہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان کے بارے میں زیادہ کھل کر خیالات پیش کیے ہیں، کبھی تو اُنھوں نے مکمل انخلا کی بات بھی کی ہے۔

جنوری 2013ء میں، اُنھوں نے کہا تھا کہ امریکہ کو افغانستان سے فوری انخلا کی کوشش کرنی چاہیئے۔

گذشتہ اکتوبر میں ٹرمپ نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ افغانستان میں لڑائی غلطی کے مترادف تھی، وگرنہ اُنھوں نے اِس خدشے کا اظہار کیا کہ امریکہ اِس میں الجھ کر رہ جائے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’’کیا وہ اگلے 200 سال تک وہاں رہیں گی؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہاں جا کر ہم نے انتہائی غلطی کی۔ ہمارے پاس ایسےعقلمند لوگ تھے جنھوں نے یہ سوچا تک نہیں کہ وہ کیا غلطی فرما رہے ہیں‘‘۔

اس ماہ کے اواخر میں، ٹرمپ نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ افغانستان جانا غلطی تھی، بلکہ امریکہ کو عراق میں ملوث ہونا ہی نہیں چاہیئے تھا۔

XS
SM
MD
LG