رسائی کے لنکس

افغانستان کا مستقبل


افغانستان کا مستقبل
افغانستان کا مستقبل

ایک برطانوی تحقیقی ادارے کا خیال ہے کہ 2014ٕءمیں اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا ءکے بعد افغان حکومت ملک کو سنبھالنے کے قابل ہوگی۔ مگر کچھ ماہرین اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ بیرونی افواج کے انخلا کے بعد بھی ملک کو مالی اور سفارتی امداد کے علاوہ بھی بہت سے شعبوں میں عالمی امداد درکار ہوگا۔

اتحادی افواج نے افغانستان سے انخلا کا آغاز تو کر دیا ہے مگر عسکریت پسندوں کی جانب سے تشدد کی کارروائیاں جاری ہیں۔

آج کل یہ موضوع زیر بحث ہے کہ کچھ ہی برسوں جب اتحادی دستے وہاں سے واپس چلے جائیں گے تو کیا افغان حکومت دہشت گردوں سے نمٹ سکے گی اور ملک کے معاملات سنبھال سکے گی یا نہیں ۔

مگر ایک مفصل تحقیق کے بعد انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹرٹیجک اسٹڈیز نے افغانستان کے بارے میں ایک مثبت نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اس ماہ شائع کی جانے والی ایک کتاب میں برطانوی ادارے کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کو 2014ءکے بعد بھی افغانستان کی مالی اورعسکری امداد جاری رکھنی ہوگی۔ کتاب کے ایڈیٹر ٹوبی ڈاج کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے افغان حکومت ملک چلانے کے لئے بہتر پوزیشن میں ہوگی۔

مگر کتا ب کے مصنفین کا کہنا ہے کہ 2014ءمیں اتحادیوں کو کابل میں فوجی کارروائیوں کے لئے نہ سہی مگر کچھ دستوں کی موجودگی برقرار رکھنی ہوگی ۔ سابق برطانوی افسر بن بیری نے کتاب میں عسکری پہلو پر ایک باب لکھا ہے۔ ان کا کہناہے یہ تو بہت واضح ہے کہ بعد میں بھی کچھ فوجی امداد درکار ہوگی۔مثال کے طور پر حساس معلومات جمع کرنے کے لئے اور کچھ ممالک شاید انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائیوں کے لئے کچھ مخصوص دستے وہاں چھوڑنا چاہیں گے۔

مگر وہ کہتے ہیں کہ افغان حکومت شاید ایسا کرنا نہ چاہے۔ مگر تما م ماہرین برطانوی تحقیقی ادارے کے مثبت تبصرے سے متفق نہیں۔ ایسےہی ایک تجزیہ کار یونیورسٹی آف لندن کے جوناتھن گڈ ہیڈ ہیں ۔ ان کا کہناہے کہ وہاں پر استحکام کا انحصار طالبان کے ساتھ بات چیت اور امن کے عمل پر ہوگا،اور اس حوالے سے ابھی بہت سی چیزیں واضح نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک وسیع تر تصفیحے کے عمل ، جو افغان عوام اور بیرونی طاقتوں کو قابل قبول ہو، کے بغیر امریکی مخصوص دستوں کی طرح افغان سیکیورٹی فورسز سن 2014ءکے بعد کافی ٕمصروف ہونگی۔

مگر برطانوی ادارے کے مصنفین کا خیال ہے کہ اتحادی ممالک کی مدد سے افغانستان کامیابی سے اس مرحلے سے گزر جائے گا۔

مگر آنے والے برسوں میں اتحادی ممالک کی جانب سے دی جانے والی بہت کم امداد فوجی نوعیت کی ہوگی اس لئے طالبان یا دوسرے دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ زیادہ تر افغان سکیورٹی فورسز کو اکیلے ہی لڑنی ہوگی۔

XS
SM
MD
LG