رسائی کے لنکس

logo-print

ہلمند: سنگین میں لڑائی جاری، مزید کمک علاقے میں پہنچ گئی


افغان حکومت کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ طالبان باغیوں کے محاصرے میں پھنسے پولیس اور فوج کے اہلکاروں تک مزید کمک اور رسد پہنچادی گئی ہے۔

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ضلع سنگین میں سرکاری فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔

طالبان نے اتوار کو صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین پر حملہ کر کے اہم مقامات پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد رواں ہفتے نیٹو فوجی مشیروں کو فوری طور پر اس علاقے کی طرف روانہ کیا گیا تاکہ وہ طالبان کی مزید پیش قدمی کو روکنے کے لیے افغان فورسز کو معاونت فراہم کر سکیں۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر دفاع معصوم ستنکزئی نے کہا کہ سنگین میں لڑائی جاری ہے، جہاں سرکاری فورسز کو طالبان نے محاصرے میں لیا ہوا ہے۔

دوسری طرف افغان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ طالبان باغیوں کے محاصرے میں پولیس اور فوج کے اہلکاروں تک مزید کمک اور رسد پہنچ چکی ہے۔

صوبہ ہلمند کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ فوجی طیاروں نے سرکاری فورسز کے لیے خوراک اور امداد بھی گرائی ہے۔

صوبائی پولیس کے مطابق مزید رسد پہنچنے کے بعد صورت حال میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم ان کے بقول اب بھی شدید لڑائی جاری ہے۔

اگرچہ زیادہ تر توجہ ضلع سنگین پر ہے لیکن ہلمند کے دیگر علاقوں سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں یہ علاقہ ماضی میں طالبان باغیوں کا گڑھ اور پوست کی پیداوار کا بھی مرکز رہا۔

رواں سال ستمبر میں شمالی شہر قندوز پر طالبان کے حملے اور کئی دنوں تک قبضے کے بعد اب ہلمند میں عسکریت پسندوں کی کارروائی کی وجہ سے افغان حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

دریں اثناء پیر کو بگرام کے فضائی اڈے کے قریب ایک خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجی اہلکاروں کی شناخت ظاہر کر دی گئی ہے، جن میں امریکی فضائیہ کی ایک افسر بھی شامل ہے جو امریکی فوج میں شامل پہلی ہم جنس پرست اہلکار تھیں اور اُنھوں نے کھلے عام شادی کی تھی۔

امریکی وزارت دفاع کے عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ میجر ایڈریانا وردربرگن گشت پر مامور ایک قافلے کی قیادت کر رہی تھیں کہ گاڑیوں کو خودکش بمبار نے نشانہ بنایا۔

XS
SM
MD
LG