رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں معدنیات کی دریافت، ایک نئے آغاز کی نوید


افغانستان میں جہاں بڑے پیمانے پر معدنی ذخائر کی نشاندہی سے امریکی اور افغان عہدے داروں کو امید ہوئی ہے کہ یہ ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے مددگار ثابت ہوں گے۔ایک امریکی تھنک ٹینک نے افغانستان میں سڑکوں کا جال بچھانے کا پروگرام پیش کیا ہے تاکہ اس ملک کی اشیاء کو عالمی منڈیوں تک پہنچایا جا سکے۔

ایک جدید سلک روڈ کے نام سے یہ حکمت عملی امریکی حکومت کو پیش کی جارہی ہے۔ جس میں افغانستان کو عالمی تجارت کی گزرگاہ بنانےکا منصوبہ پیش کیا گیا ہے تاکہ اس ملک کومعاشی اعتبار سے اوباما انتظامیہ کے طے شدہ وقت کے مطابق اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکے۔

سی اے سی آئی کے چیئر مین فریڈرک سٹار کہتے ہیں کہ حکمتِ عملی ایسی ہونی چاہیے جو علاقے کے عام لوگوں کی زندگی کو بہتر بنائے۔ نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان اور ہمسایہ ممالک میں بھی۔ اگر لوگوں کو یہ نظر نہ آئے کہ امریکہ اور نیٹو کی کوششوں سے ان کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں تو وہ اس کی حمائت کیوں کریں۔

سلک روڈ سٹرٹیجی میں افغانستان کو سڑکوں کے ذریعے دیگر خطوں سے ملانے کا پلان پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کونٹری سے کلکتہ ، ہیمبرگ سے ہنائے، ماسکو سے مدراس اور میڈریڈ سے ممبئی کو ملانے کی بات کر رہے ہیں۔ اور اس سب کے لیے افغانستان سے گزرنا ہوگا۔ تو افغانستان ہی حب ہے۔ اور ہم نے ٹرانسپورٹ اور ٹریڈ کی کئی قسموں کی بات کی ہے۔ ہم سڑکوں کی بات کر رہے ہیں ۔ ریل روڈز کی بات کر رہے ہیں۔ ہم پائپ لائنوں کی بات کر رہے ہیں۔ ٹی اے پی آئی یعنی ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا پائپ لائن۔وہ سب اس کے لیے بات کرنا چاہتے ہیں۔

اس مجوزہ پائپ لائن کے لیے افغانستان کی سیکیورٹی صورتِ حال سب سے زیادہ اہم ہے۔ تو کیا ایسی صورتِ حال میں افغانستان میں ایسا کوئی بھی پراجیکٹ شروع کیا جا سکتا ہے۔سینٹر فار سٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سڈیز میں روس اور سینٹرل ایشائی امور کے تجزیہ کار اینڈریو کوچنز کہتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ ایسا ممکن ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ انتہائی ضروری ہے۔اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو مجھے یقین ہے کہ ہم ناکام ہو جائیں گے، اور اس کی وجہ ہے معاشی ترقی۔ افغان عوام کی زندگیاں بہتر بنانا۔ اور خطے کے دیگر ممالک یعنی پاکستان، انڈیا ، ایران اور سینٹرل ایشیا کے لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانا۔

یوایس ایڈ کے مارٹن ہنریٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت بجلی کی پیداوار اور فراہمی کے لیے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اور اسے ملک کے اندر بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہت بڑی سرمایہ کاری اور وقت درکار ہوگا تاکہ وہاں لوڈ شیڈنگ نہ ہو۔ وہ سستی ہائیڈرو پاور کے لیے تاجکستان اور کرغزستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جو افغانستان کے راستے پشاور پہنچے گی اور بھر ان کے نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی۔

ماہرین کے مطابق افغان حکومت کے تمام تر اخراجات امریکی ٹیکس دہندگان کی جیبوں سے جا رہے ہیں اور یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری نہیں رہ سکتا۔

امید کی جا رہی ہے کہ جدید سلک روڈ سٹرٹیجی کے لیے فنڈنگ امریکی کانگریس کے علاوہ عالمی بنک اور ایشائی ترقیاتی بنک سے حاصل کی جائے گی۔ عالمی بینک اور ایشائی ترقیاتی بینک2004 ءسے 2009 ءکے درمیان وسطی اور مغربی ایشیا میں ذرائع آمدورفت کی تعمیرکے لیے نو ارب ڈالر کی رقوم دے چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG