رسائی کے لنکس

logo-print

صدر کرزئی اور گیٹس کے درمیان مذاکرات


امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ملاقات میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کارروائیوں اور نیٹو کے ایک فضائی حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے معاملات پر گفتگو ہوئی۔ صدر کرزئی کا کہنا ہے کہ عام شہری ہلاکتوں سے شورش پسندوں کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ رہاہے۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ افغانستان میں بدعنوانی کےخلاف جنگ کی قیادت افغان حکومت کو کرنی چاہیے۔ انہوں نے جمعرات کےر وز کابل میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کی روک تھام کے دو یونٹس ،جنہیں مغرب کی حمایت حاصل ہے، افغانستان کے زیر انتظام ہونے چاہییں، لیکن ان کی بین الاقوامی ساکھ بھی قائم رہنی چاہیے ۔ صدر کرزئی نے بدعنوانی کےخلاف جنگ کے عزم کا اظہار کیا ۔

دونوں راہنماؤں نے نیٹو کےاس فضائی حملے کے بارے میں بھی بات چیت کی ، جس میں صدر کرزئی کے مطابق ایک پارلیمانی امیدوار کی ٹیم کے دس ارکان ہلاک اور شمالی صوبے تخار کا ایک امیدوار زخمی ہوا۔

نیٹو کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی عام شہریوں کی ہلاکتیں اتحاد کے ارکان اور افغا ن راہنما کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ رہی ہیں۔ مسٹر کرزئی نے جمعرات کے روز کہا کہ افغان بستیوں پر فضائی حملوں سے صرف عام شہری ہی ہلاک ہوتے ہیں اور ان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اثر پڑتا ہے۔

نیٹو نے کہا ہے کہ جمعرات کے فضائی حملے کا ہدف اسلامک موومنٹ آف ازبکستان سے تعلق رکھنے والا ایک عسکریت پسند کمانڈر تھا ، جو روشتق ضلع میں موٹر گاڑیوں کے ایک قافلے میں سفر کر رہا تھا۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک سینئیر عسکریت پسند سمیت ، لگ بھگ بارہ شورش پسند ہلاک ہوئے تھے ۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں چھان بین کر رہا ہے کہ آیا اس حملے میں عام شہری ہلاک ہوئے تھے یا نہیں ۔

جمعرات کے روز نیٹو نے کہا کہ جنوبی صوبے قندھار میں بدھ کو شورش پسندوں اور اتحادی فورسز کے درمیان لڑائی کے دوران عام شہری ہلاک ہوئے تھے ۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ تشدد کےایک او رواقعے میں، مشرقی اور جنوبی افغانستان میں الگ الگ حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے ۔ یہ دونوں علاقے طالبان عسکریت پسندوں کے سب سے مضبوط گڑھ ہیں ۔

XS
SM
MD
LG