رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان کو درپیش مسائل پر لندن کانفرنس کی تیاری



افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کائی آئیدی نے کہا ہے کہ افغان عہدے داروں کو طالبان سے بات چیت کا عمل شروع کرنے کے لیے پہلے چند سینیئر طالبان لیڈروں کے نام اقوامِ متحدہ کے دہشت گردی کی فہرست سے نکلوانے کے لیے بات کرنا ہو گی۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب 28 جنوری کو لندن میں افغانستان کو درپیش مشکلات پر کانفرنس ہونے والی ہے۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس کانفرنس میں صدر حامد کرزئی طالبان رہنماوں کو بات چیت کی دعوت دیں گے۔ امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں بھی اس کانفرنس سے بہت سی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

18 جنوری کو کابل میں طالبان کے حملوں نے افغان دارلحکومت میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی اور لندن میں ہونے والی کانفرنس کی ضرورت پر مہر ثبت کر دی۔

صدر حامد کرزئی وہاں ہوں گے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو امید ہے کہ یہ کانفرنس افغانستان کی ملٹری، سیکیورٹی اور معاشی استحکام سے وابستہ عالمی وعدوں کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اس کانفرنس میں شریک ہوں گی۔ ان کےساتھ ہوں گے صدر اوباما کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان اور پاکستان رچرڈ ہول بروک، جو چند دن پہلے خطے کے دورے سے واپس آئے ہیں۔

رچرڈ ہول بروک نے امریکی سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کو بتایا کہ اوباما انتظامیہ افغانستان اور پاکستان میں سول اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی پالیسی پر چل رہی ہے۔
ڈیوڈ ملی بینڈ کانفرنس کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ اگلے ہفتے ہونے والی کانفرنس میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گاکہ اس سے70 ممالک کے وزراء خارجہ میں ہم آہنگی پیدا ہو گی اور مجھے امید ہے کہ لوگوں میں بھی افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے پلان کی آگہی پیدا ہو گی۔

امریکی قانون ساز افغانستان میں بدعنوانی کے متعلق بھی پریشان ہیں۔ امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے ممالک چاہتے ہیں کہ صدر کرزئی اسے روکنے کے لیے کام کریں۔

سینیٹر جان کیری کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے ایک نئے سروے سے پتا چلا ہے کہ گزشتہ سال ہر دو میں سے ایک افغان باشندے نے کسی سرکاری عہدے دار کو رشوت دی۔ یہ روزمرہ زندگی کا معمول بنتا جا رہا ہے۔ اسے روکنا چاہیے۔

کرپشن کے باوجود ہول بروک نے کابل کی صورتِ حال کے بارے میں ایک امید افزا جائزہ پیش کیا۔ان کا کہناتھا کہ میں آپ سے یہ وعدہ نہیں کرنا چاہتا کہ کل سے کرپشن ختم ہو جائے گی۔ اور صدر کرزئی خود سے یہ مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔ میں یہ وعدہ بھی نہیں کرنا چاہتا کہ نئے اتحاد کے بعد ہزاروں لاکھوں لوگ جنگ کے میدان سے باہر نکل آئیں گے۔ میں کمیٹی کے ممبران کو صرف اتنا کہہ سکتا ہوں مجھے کابل کی آج کی صورتِ حال اس وقت سے کافی بہترنظر آ رہی ہے جب ہم نے حکومت سنبھالی تھی۔ ہمیں ورثے میں بہت مشکل صورتِ حال ملی تھی۔ صاف صاف کہوں تو اس وقت حالات بہت خراب تھے۔

کمیٹی کے ریپبلکن ممبر رچرڈ لوگر نے کہا کہ ترقی کے لیے کئی برسوں کی ٹوٹی ہوئی اور غیر منظم کوششوں کے بعد لندن کانفرنس کے نتائج نکلنے چاہیئں۔انہوں نے کہا کہ لندن کانفرنس صدر کرزئی کے لیے بہت اہم موقع ہے کہ وہ اپنے ملک میں عالمی کوششوں کے ساتھ تعاون کو بڑھائیں اور اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے تبدیلی لے کر آئیں۔ اور انہیں ملک کی ترقی کے لیے اپنی حکومت کے اندر ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملانے کے راستے ڈھونڈنے ہوں گے۔

لندن کانفرنس کا آغاز جمرات 28 جنوری سے ہو رہا ہے۔امید کی جا رہی ہے کہ اس کے ذریعے ان طالبان لیڈروں کو اتحاد میں شامل کرنے کے منصوبوں کے لیے رقم اکٹھی کی جائے گی جو اس وقت حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اور اس کے علاوہ افغانستان کے لیے امریکہ برطانیہ اور اتحادیوں کی نئی حکمتِ عملی بھی تلاش کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG