رسائی کے لنکس

logo-print

بڑے حملے میں پیش قدمی جاری ہے: افغان فوج


کارروائى کا مرکز مرجاہ نامی شہر ہے، جو سنہ2001 میں افغانستان کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے سب سے بڑی مشترکہ فوجی کارروائى ہے

افغان فوج اور نیٹو کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ جنوب کے صوبے ہلمند میں طالبان جنگجوؤں کو اُن کے بڑے بڑے مضبوط ٹھکانوں سے بے دخل کرنے کے مقصد سے جاری بڑی فوجی کارروائى میں فوج بدستور پیش قدمی کررہی ہے۔

لگ بھگ 15 ہزار امریکی، برطانوی اور افغان فوجیوں کی اس کارروائى کا مرکز مرجاہ نامی شہر ہے اور یہ 2001 میں افغانستان کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے سب سے بڑی مشترکہ فوجی کارروائى ہے۔

فوجی کمانڈروں نے اگرچہ پیش قدمی کی اطلاع دی ہے ، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض علاقوں میں فوج کو شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ افغان وزیرِ داخلہ حنیف اتمار نے کہا ہے کہ اتحاد کی فوجوں نے مرجاہ کو سر کرلیا ہے۔ وزیرِ داخلہ نے صوبائى دارالحکومت لشکر گاہ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے جنگجوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔

افغان عہدے داروں نے کہا ہے کہ پیر کے روز لڑائیوں میں کم سے کم 27 باغی اور دو فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں ایک برطانوی اور ایک امریکی تھا۔

ایک الگ واقعے میں، نیٹو کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ افغانستان کے صوبے قندھار میں پیر کے روز مشتبہ طورپر باغیوں کے خلاف ایک فضائى حملے میں پانچ عام شہری ہلاک ہوگئے۔عہدے داروں نے کہا ہے کہ فوجیوں نے عام شہریوں کے بارے میں غلطی سے یہ سمجھ کر کہ وہ کوئى دھماکا خیز چیز زمین میں دبا رہے ہیں، فضائى حملے کی درخواست کی تھی۔

اوراتوار کے روز 12 عام شہری حادثتاً اُس وقت ہلاک ہوگئے تھے ، جب اتحاد کی فوجوں کے فائر کیے ہوئے دو راکٹ نشانے سے چُوک کر ایک گھر پر جاگرے تھے۔ نیٹو نے اس واقعے کی ذمّے داری قبول کی ہے اور اُس قسم کے راکٹوں کے استعمال کو معطّل کردیاہے، جو نشانے سے چُوکے تھے۔

افغان صدر حامد کرزئى نے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی چھان بین کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG