رسائی کے لنکس

logo-print

سلامتی کا معاہدہ، نااتفاقی دور کی جائے: مکین


جان مکین نے کابل میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ دورے پہ آئے ہوئے امریکی قانون سازوں نے مسٹر کرزئی کو متنبہ کیا ہے کہ باہمی سلامتی کے معاہدے پر دستخط کرنے میں ناکامی کی صورت میں افغانستان اور اُس سے ملحقہ خطے کو خطرات لاحق ہوں گے

امریکی سینیٹر جان مکین اور افغانستان کا دورہ کرنے والے دیگر امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے صدر حامد کرزئی پر زور دیا ہے کہ سلامتی سے متعلق افغان امریکہ سمجھوتے کے وہ نکات جِن پر نااتفاقی ہے، ’اُسے جلد از جلد دور کیا جائے‘۔

مکین نے کہا کہ اُن کے ساتھیوں نے مسٹر کرزئی کو متنبہ کیا کہ باہمی سلامتی کے معاہدے پر دستخط کرنے میں ناکامی سے افغانستان اور اُس سے ملحقہ خطے، دونوں کو خطرات لاحق ہوں گے۔

تاہم، ایریزونا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے مزید کہا کہ وہ پُرامید ہیں کہ طرفین کے مابین اختلافات کافی حد تک کم ہوچکے ہیں، اور یہ چند دِنوں یا ہفتوں کے اندر حل ہوسکتے ہیں۔

مکین نے کابل میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ، ’ہم نے باہمی سکیورٹی کے معاہدے کی اہمیت کے حوالے سے تاخیر سے نہیں بلکہ بہت جلد پیش رفت کے حصول کے بارے میں اپنی رائے دی‘۔

بقول اُن کے، ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سمجھوتا افغانستان کے مستقبل کے لیے اہمیت کا حامل ہے‘۔

مکین کے ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے دو ساتھیوں، ویومنگ کے جان براسو اور جنوبی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے لِنڈسی گراہم نے بھی جمعرات کو کرزئی سے ملاقات کی۔

معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں، امریکہ اور نیٹو کی تمام افواج اس سال کے اواخر تک افغانستان سے چلی جائیں گی۔
XS
SM
MD
LG