رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں چار امریکی فوجی ہلاک


افغانستان کے مختلف علاقوں میں اتحادی افواج اور شورش پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں چار امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

نیٹو کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اتوار کے روز یہ جھڑپیں جنوبی افغانستان اور ملک کے مشرقی علاقے میں پاکستان کی سرحد کے قریب ہوئیں۔

شورش پسندافغان شہریوں پر بھی حملے جاری رکھے ہوئےہیں۔ ہفتے کے روز مغربی صوبے ہرات میں اگلے ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے ایک امیدوار کےبھائی کو ہلاک کردیا گیا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ حملہ 18 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں میں رخنہ ڈالنے کی مہم کا حصہ ہے۔

ایک اور واقعہ میں جنوبی صوبے قندھار میں ایک پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی کے ایک اعلی عہدے دار کو ہلاک کردیا گیا۔

افغان صدر حامد کرزئی کہہ چکے ہیں کہ وہ اس سال کے آخر تک پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کا ملک سے خاتمہ چاہتے ہیں۔ امریکی ٹیلی ویژن چینل اے بی سی کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں مسٹر کرزئی نے پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کو افغان سیکیورٹی فورسز اور خاص طورپر ملک کی پولیس کی تشکیل اور ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ قرار دیا۔

صدر کرزئی نے کہا کہ وہ طالبان کے ان ارکان تک رسائی کی کوشش کررہے ہیں جو القاعدہ کے اتحادی نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات ان طالبان کے ساتھ ہوسکتے ہیں جو دہشت گرد نیٹ ورک یا کسی غیر ملکی گروپ کا حصہ نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا منصوبہ واضح ہے۔

افغان صدر نے یہ بھی کہا کہ طالبان کے ساتھ کسی امن معاہدے کی صورت میں افغان خواتین کے حقوق قربان نہیں کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG