رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: مالی و جانی نقصان پر بان کی مون کا دکھ کا اظہار


اقوام متحدہ کے سربراہ نے بتایا ہے کہ اِن قدرتی آفات کے بعد متاثرین کی فوری امداد کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے والے پارٹنر تیزی سے حرکت میں آگئے ہیں

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے افغانستان کے کابل، پروان، پنج شیر، پکیسا، بدخشاں اور نورستان کے صوبوں میں طوفان، برف کے تودے گرنے اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور قیمتی جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کے روز ایک اخباری بیان میں عالمی ادارے کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سکریٹری جنرل نے افغانستان کے عوام اور حکومت سے تعزیت کی ہے، خاص طور پر اِن حادثات کے نتیجے میں اہل خانہ، احباب، گھروں کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ اِن قدرتی آفات کے بعد متاثرین کی فوری امداد کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے والے ساجھے دار تیزی سے حرکت میں آگئے ہیں۔

بقول، سکریٹری جنرل، جہاں تک ممکن ہے، نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کو فوری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی، اُن خاندانوں اور برادریوں کی بحالی کے لیے کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بنایا جارہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، صوبہ پنج شیر میں برفافی تودے تلے دب کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد جمعرات کو 186 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ برف کے تودے گرنے سے 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ حکام کے مطابق، افغانستان اور خاص طور پر پنج شیر میں گزشتہ 30 برسوں کے دوران، برفانی تودہ گرنے کا یہ مہلک ترین واقعہ ہے۔ صوبائی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ شدید برفباری آئندہ دو روز تک جاری رہ سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG