رسائی کے لنکس

logo-print

قندھار میں بڑی فوجی کارروائى جون میں شروع ہوگی: امریکی عہدے دار


امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی فوجیں افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں طالبان کے خلاف جون میں کوئى بڑا حملہ شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔

عہدے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ پیر کے روز کہا ہے کہ اس کارروائى کا مقصد اگست میں رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے طالبان کو قندھار شہر سے نکال باہر کرنا ہے۔

برابر کے صوبے ہلمند اسی قسم کی ایک بڑی کارروائی کے بعد نیٹو کی فوجیں اب اُس علاقے پر اپنے کنٹرول کو مستحکم کرنے کے لیے کام کررہی ہیں، جس پر پہلے طالبان کا قبضہ تھا۔

اسی دوران، امریکی صدر براک اوباما کسی اعلان کے بغیر افغانستان کے ایک مختصر دورے کے بعد پیر کے روز واپس واشنگٹن پہنچ گئے ۔افغانستان میں انہوں نے صدر حامد کرزئى پر زور دیا کہ وہ بد عنوانیوں کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کریں اور اپنی حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔

مسٹر اوباما کا کابل کا چھ گھنٹے کا دورہ اتوار کی شام ایوان صدر میں مذاکرات کے ساتھ شروع ہوا تھا۔انہوں نے ملک کو محفوظ بنانے کے لیے مسٹر کرزئى اور اُن کی کابینہ کی کوششوں کی تعریف کی۔لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ عہدے داروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بدعنوانیوں کو ختم کر نے کے لیے زیادہ سخت کارروائیاں کریں اور قانون کی حکمرانی کو وُسعت دیں۔

مسٹر کرزئى نے امریکہ سے ملنے والی امداد کا شکریہ اد کیا اور وعدہ کیا کہ اُن کا ملک آگے بڑھے گا اورانجام کار اپنی سکیورٹی کی ذمّے داریاں خود سنبھال لےگا۔وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر کرزئى 12 مئى کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔

صدر اوباما نے کابل کے شمال میں واقع بگرام کے فضایہ کے اڈے پر امریکی فوج کے افسروں اور جوانوں سے ملاقات بھی کی۔ اس موقعے پر انہوں نے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کا نصب العین واضح ہے۔ اور وہ ہے، القاعدہ اور اُس کے انتہا پسند اتحادیوں کی کی تنظیم کو دربرہم کرنا، منہدم کرنا، شکست دینا اور تباہ کردینا۔

XS
SM
MD
LG