رسائی کے لنکس

چمن: پاکستانی فورسز اور افغان طالبان میں ایک بار پھر جھڑپیں، 15 افراد زخمی


چمن میں چار روز قبل بھی پاکستانی فورسز اور افغان طالبان میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔ ان جھڑپوں میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔
چمن میں چار روز قبل بھی پاکستانی فورسز اور افغان طالبان میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔ ان جھڑپوں میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کی فورسز اور افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کے درمیان چمن سرحد پر ایک بار پھر جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں میں ابتدائی طور پر 15 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق جمعرات کو افغانستان سے داغا گیا ایک گولہ چمن میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے قلعے کے قریب گرا۔ جس کے فوری بعد چمن بارڈر پر کسٹم ہاؤس کو خالی کرا لیا گیا۔

اس دوران دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔

دوطرفہ فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات پر چمن کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹا جا سکے۔

دوسری جانب افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقعے ضلع اسپن بلدک میں طالبان کے مقرر کردہ پولیس چیف کا کہنا تھا کہ قندھار صوبے میں اسپن بلدک-چمن کی سرحد پر دونوں جانب کی فورسز میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے اس حوالے سے مزید کسی بھی قسم کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔

رپورٹس کے مطابق مقامی گاؤں لعل محمد میں باڑ ھ کی مرمت کے دوران تنازع شروع ہوا تھا جو کہ باقاعدہ مسلح جھڑپ کی صورت اختیار کر گیا۔ قبل ازیں اس مقام پر باڑ لگانے پر بھی فریقین میں مسلح جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق چمن کے اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر مالک اچکزئی نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ اور گولہ باری سے ابتدائی طور پر 12 زخمی ہونے والے افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کو طبی امداد دی گئی۔ بعد ازاں مزید تین زخمیوں کو اسپتال لایا گیا۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کے عملے کے مطابق زخمی ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جب کہ چار شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے صوبے کے دارالحکومت کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا نے پاکستان کے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران کسٹم ہاؤس کے علاقے میں بھی متعدد گولے گرے۔

حکام نے علاقہ مکینوں کو فوری طور پر مال روڈ، بوغر روڈ، بائی پاس روڈ اور بارڈر روڈ کے اطراف آبادیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کیے۔

سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی شیئر کی جا رہی ہیں جن میں فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں البتہ یہ تصدیق کرنا مشکل ہے کہ یہ ویڈیوز کہاں کی ہیں۔

پاک افغان اسپن بولدک چمن سرحدی گزرگاہ پر سیکیوریٹی میں اضافہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:54 0:00

واضح رہے کہ چار روز قبل بھی چمن سرحد پر پاکستانی فورسز اور افغان طالبان میں شدید جھڑپ ہوئی تھی جس میں سات افراد ہلاک جب کہ 27 زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان کی فوج نے اس وقت بتایا تھا کہ چمن میں چھ عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جب کہ طالبان نے ایک جنگجو کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

اس سے پہلے گزشتہ ماہ بھی چمن سرحد پر فائرنگ سے پاکستان کا ایک سیکیورٹی اہلکار مارا گیا تھا جس کے بعد کئی دن تک'' بابِ دوستی'' کو بند رکھا گیا تھا اور سرحد پر آمد و رفت معطل تھی۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کی فورسز میں سرحد پر باڑ ھ لگانے اور چوکیوں کے قیام پر کئی بار تنازعات سامنے آ چکے ہیں۔

چمن سرحد سے دونوں جانب یومیہ ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں جب کہ پاکستان افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت سینکڑوں مال بردار گاڑیوں کی آمد و رفت بھی ہوتی ہے۔

مبصرین کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب طالبان حکومت کو تاحال دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا اور افغانستان کے نو ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے منجمد ہیں، طالبان کے پاکستان کے ساتھ بھی تنازعات آئے روز شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

سینٹ کام کے سربراہ کی جنرل عاصم منیر سے ملاقات

دوسری جانب امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک نے پاکستان فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا ہے اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی ہے۔

وفود کی سطح پر ہونے والی اس ملاقات میں سیکیورٹی صورتِ حال، علاقائی استحکام، دفاعی اور سلامتی شراکت داری سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل مائیک ایرک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ، سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں اور علاقائی سلامتی کے لیے پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف کیا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ وفد طورخم کا بھی دورہ کرے گا جہاں انہیں پاک افغان بارڈر پر انسدادِ دہشت گردی اور بارڈر مینجمنٹ کے طریقۂ کار سے آگاہ کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG