رسائی کے لنکس

logo-print

کرزئی کے24 میں سے17 وزراء کی نامزدگی مسترد


صدر کرزئى نے اپنی کابینہ کے لیےاسماعیل خان اور تمام کے تمام 24 افراد کی نامزدگیوں کی صفائى پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لوگ پورے افغانستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔

افغانستان کی پارلیمان نےنئی کابینہ کے لیے صدر حامد کرزئی کےنامزد کردہ 24 میں سے17 وزراءکومسترد کردیا ہے۔

خفیہ رائے شماری کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئےاُولسی جرگے کے سپیکر یونس قانونی نے کہا کہ ایوان زیریں نے صرف سات وزراء کے ناموں کی منظوری دی ہےجن میں وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے وزراء شامل ہیں۔

مسترد کیے جانے والوں میں مغربی صوبے ہرات کے سابق گورنرجنگی سردار اسماعیل خان بھی شامل ہیں جن پر مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بدعنوانی اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتی آئی ہیں۔ انھیں افغان صدر نےاپنی نئى کابینہ میں دوسری معیاد کے لیے توانائى کا وزیر نامزد کیا تھا لیکن پارلیمنٹ کے ارکان نےاُسے ردّ کردیا ہے۔

1980ء کے عشرے میں اسماعیل خان نے سوویت فوج کے خلاف لڑائیوں میں حصّہ لیا تھا اور اس کے بعد وہ طالبان کے خلاف اپنے معرکوں اور2000ء میں طالبان کے ایک قید خانے سے فرار ہوجانے کی بنا پر ایک ہیرو کی مانند مشہور ہوگئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ خان نے ایک ظالم حکمران کی طرح صوبہ ہرات پر راج کیا تھا اور وہ اپنے مخالفین کو اذیّتیں اورانہیں زدوکوب کرتے تھے۔

نئی کابینہ میں واحد خاتون وزیر حسن بانو اور وزیرِ صحت کی حیثیت سے سیّد محمد امین فاطمی کی نامزدگی کو بھی پارلیمنٹ نے نامنظور کردیا ہے۔

صدر کرزئى نے اپنی کابینہ کے لیےاسماعیل خان اور تمام کے تمام 24 افراد کی نامزدگیوں کی صفائى پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لوگ پورے افغانستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک صدارتی ترجمان نے پارلیمان کے فیصلے کو بری خبر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملک کی پارلیمنٹ کے فیصلے کا احترام کرے گی۔

ہفتے کے روز ہی افغانستان کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمانی انتخابات 22 مئى کو ہوں گے۔ یہ اعلان اس بارے میں بین الاقوامی دباؤ کے باوجود کیا گیا ہے کہ جب تک حکومت اُن بد عنوانیوں کو ختم نہیں کرتی، جن کی وجہ سے اگست کے صدارتی انتخاب میں دھاندلی ہوئى تھی، اُس وقت تک الیکشن کو ملتوی رکھا جائے۔

دریں اثنا مشرقی افغانستان کے صوبے خوست میں بین الاقوامی فوجوں نے کہا ہے کہ انہوں نے جمعے کی رات دیر گئے افغان فوج کے ساتھ ایک مشترکہ کارروائى کے دوران حقانی گروپ کے ایک لیڈر کو گرفتار کرلیا ہے۔ حقانی گروپ طالبان کا اتحادی ہے اور اسے افغنستان میں سب سے زیادہ خوں ریز حملوں کا ذمّے دار سمجھا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG