رسائی کے لنکس

logo-print

افغان پارلیمنٹ نےصدر کی انتخابی ادارے کو کنٹرول کرنے کی کوشش ردّ کردی


افغان پارلیمنٹ کے ارکان نے صدر حامد کرزئى کی اُس کوشش کو مسترد کردیا ، جس کا مقصد انتخابات کے نگراں ایک اہم کمیشن پر صدر کے کنٹرول میں اضافہ کرنا تھا۔

پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے ارکان نے اُس مجوزہ مسودہ قانون پر ووٹنگ کرکے اُسے نامنظور کردیا ، جس کا مقصد مسٹر کرزئى کو کمیشن برائے انتخابی شکایات کے پانچ ارکان میں سے تین کو خود نامزد کرنے کا اختیار دینا تھا۔اس کمیشن نے پچھلے سال افغانستان کے صدارتی الیکشن میں جعلی ووٹوں کو ردّ کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا تھا۔ ردّ کیے جانے والے بیشتر ووٹ مسٹر کرزئى کے حق میں ڈالے گئے تھے۔

مسٹر کرزئى حالیہ مہینوں میں اس ادارے پر اپنی گرفت کو سخت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور امریکہ اور نیٹو کے اتحادیوں نے اس پر نکتہ چینی کی تھی۔

اس سے پہلے صدر کو اپنے اُس منصوبے سے دستبردار ہونا پڑا تھا ، جس میں وہ کمیشن کے تمام کے تمام پانچ ارکان کو نامزد کرنے کا اختیار حاصل کرنا چاہتے تھے اور وہ کمیشن میں دو غیر ملکی ارکان کی اجازت دینے پر رضا مند ہوگئے تھے۔ گذشتہ الیکشن میں اس کمیشن کے پانچ میں سے تین ارکان غیر ملکی تھے۔

اسی دوران جنوبی افغانستان میں بم کے ایک حملے میں کم سے کم 13 افراد ہلاک ہوگئے۔

بدھ کے روز یہ حملہ صوبہ ہلمند کے صدر مقام لشکر گاہ کے قریب ضلع نہرِ سراج میں کیا گیا۔نیٹو نے کہا ہے کہ اُس کے ہیلی کاپٹروں نے کم سے کم 40 زخمیوں کو ہسپتالوں میں پہنچایا۔

افغان حکام نے کہا ہے بم اُس وقت پھٹا جب اُس مقام پر مفت تقسیم کیے جانے والے بِیج حاصل کرنے کی خاطر لوگ جمع ہورہے تھے۔یہ بیج کسانوں میں افیون کی کاشت کی حوصلہ شکنی کے ایک پروگرام کے تحت تقسیم کیے جارہے تھے۔

اس سے پہلے صوبائى حکومت کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ دھماکا کسی خود کُش حملہ آور نے کیا تھا۔ لیکن وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ بم ایک سائیکل کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔

افغانستان میں امریکہ کے زیرِ قیادت نیٹو کی فوجیں ہلمند کے علاقے مارجہ میں فروری سے طالبان باغیوں کا صفایا کررہی ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ وہ آنے والے مہینوں میں برابر کے صوبے قندھار میں کوئى بڑی کارروائى شروع کرنے کی تیاری بھی کررہی ہیں۔

بدھ کے روز ہی کابل میں امریکہ کے جوائینٹ چیفس آف سٹاف کے چئیر مین ایڈمرل مائیک مُلین نے نامہ نگاروں سے کہا ہے کہ طالبان کا زور توڑنے کے لیے قندھار پر کنٹرول حاصل کرنا کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی عہدے داروں کے پاس اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ افغانستان میں ایران کا منفی اثرو نفوذ بڑھتا جارہاہے۔ ایڈمرل مُلین نے کہا کہ امریکی عہدے داروں کے پاس ہتھیاروں کی ایک ایسی کھیپ کے بارے میں شہادت ہے جو ایران سے قندھار پہنچی تھی۔

XS
SM
MD
LG