رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی افغانستان میں مسلح جھڑپوں میں کمی آگئى ہے: نیٹو


نیٹو نے کہا ہے کہ جنوبی افغانستان میں طالبان کے مضبوط گڑھ کے خلاف اتحادکی فوجی کارروائیوں کی رفتار پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران سُست ہوگئى ہے۔اور جن علاقوں کو جنگجوؤں سے پاک کردیا گیا ہے وہاں کچھ لوگوں نے واپس اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کردیا ہے۔

نیٹو نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ مرجاہ شہر کے اطراف میں اگرچہ ابھی تک سڑک کے کنارے چُھپائے ہوئے بموں اور باغیوں کے نشانہ باز بندوقچیوں کا خطرہ موجود ہے، لیکن طالبان جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں کی تعداد کم ہوگئى ہے۔

نیٹو کا کہنا ہے کہ وسطی ہلمند کے تقریباً تین ہزار 600 لوگو ں نے صوبائى دارالحکومت میں اپنے آپ کو اندرونِ ملک بے گھر لوگوں کی حیثیت سے رجسٹر کرایا ہے۔

بدھ کے روز ہی برابر کے صوبے قندھار میں پولیس نے کہا ہے کہ ایک موٹر سائیکل پر سوار مسلح آدمیوں نے حکومت کے ایک سینئر عہدے دار کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

صوبائى پولیس کے سربراہ کے نائب محمد شاہ فاروقی نے کہا ہے کہ قندھار کے ثقافت اور اطلاعات کے محکمے کے سربراہ عبد الماجد بابئى گھر سے اپنے کام پر جارہے تھےجب اُنہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔

نیٹو کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ جنوب میں جاری بڑے حملے کا ایک اہم مقصد افغان آبادی کا اعتماد حاصل کرنا ہے ۔ لیکن اس بارے میں سخت قواعد و ضوابط کے باوجود کہ اتحاد کے فوجی طالبان کے حملوں کا کس طرح جواب دیں گے، عام شہریوں کا جانی نقصان بدستور جاری ہے۔

منگل کے روز امریکی جنرل سٹینلی میک کِرسٹل نے حال ہی میں صوبہ ارضگان میں ایک فضائى حملے میں 27 عام شہریوں کی ہلاکت پر براہ راست افغانستان کے لوگوں سے معافی کی درخواست کی تھی۔

ملک میں امریکہ اور نیٹو کی فوجوں کے کمانڈر نے اپنی معافی کو ایک ایسے وِڈیو کی صورت میں جاری کیا ، جس کا پشتو اور دری، دونوں افغان زبانوں میں ترجہ کیا گیا تھا اور جسے افغان ٹیلی ویژن نے نشر کیا۔

XS
SM
MD
LG