رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان : ایک ہی دن میں چھ غیر ملکی فوجی ہلاک



نیٹو نے پیر کے دن افغانستان میں چھ غیر ملکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی ہے اور اس طرح یہ دن، غیر ملکی فوجوں کے لیے پچھلے کئی مہینوں میں سب سے خوں ریز دن بن گیا ہے۔

نیٹو نے کہا ہے کہ تین امریکی فوجی پیر کی سہ پہر جنوبی افغانستان میں ایک لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے، جب کہ دو اور غیر ملکی فوجی ملک کے مشرق میں ہونے والی جھڑپوں میں کام آ گئے۔

فرانس کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ کابل سے لگ بھگ 80 کلومیٹر شمال مشرق میں کیے جانے والے ایک حملے میں اُن کا ایک فوجی ہلاک ایک شدید زخمی ہو گیا۔

اسی دوران افغانستان میں امریکہ کے چوٹی کے کمانڈر جنرل سٹینلی میک کِرسٹل نے کہا ہے کہ اس بات کی شہادت موجود ہے کہ ملک میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافے کے باعث طالبان کی پیش قدمی پسپائى میں تبدیل ہو رہی ہے۔جنرل نے ٹی وی چینل اے بی سی کے ایک پروگرام میں نشر ہونے والے انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ امریکی فوج نے اپنا کارروائیاں کرنے کا طریقہ بدل دیا ہے اور اب اُسے افغان لوگوں کو یہ سمجھانے کرانے میں کامیابی ہو رہی ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجیں اُن کی حفاظت کے لیے تعینات ہیں۔

میک کِرسٹل نے کہا کہ اُنھوں نے حال ہی میں قبائلی عمائدین کے ہمراہ جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند کے ایک ایسے علاقے میں ایک جلسے میں شرکت کی تھی، جو سات مہینے پہلے تک طالبان کے کنٹرول میں تھا۔انہوں نے کہا کہ مقامی عمائدین مستقبل کے بارے میں پُر اُمید ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکی حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

افغانستان میں امریکی، برطانوی اور جرمن نشریاتی اداروں کے زیرِ اہتمام رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے سے پتا چلتا ہے کہ 70 فیصد افغانوں کو یقین ہے کہ اُن کا ملک صحیح سَمت میں جا رہا ہے۔ جائزے کے مُنتظمین کا کہنا ہے کہ یہ 2005ء کے بعد سے ملک میں پُر اُمید لوگوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ پچھلے سال رائے عامّہ کے ایک جائزے میں شامل 40 فیصد لوگوں نے اسی قسم کی اُمید کا اظہار کیا تھا۔

رائے عامّہ کے جائزے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سوال کے جواب میں افغان لوگ تقریباً مساوی تعداد میں بٹے ہوئے ہیں کہ عام شہریوں کے جانی نقصان کا ذمّے دار کون ہے۔ جائزے کے مطابق تقریباً 36 فیصد لوگوں نے غیر ملکی فوجوں پر الزام عائد کیا کہ اُن کے نشانے ٹھیک نہیں ہیں۔ تقریباً 35 فیصد نے جنگ جوؤں پر الزام عائد کیا کہ وہ عام شہریوں میں چُھپ کر حملے کرتے ہیں۔ باقی لوگوں نے دونوں فریقوں کو ذمّے دار ٹھہرایا۔

XS
SM
MD
LG