رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کے مضبوط ٹھکانےپر افغان حکومت کا کنٹرول بحال ہوگیا


افغان حکومت نے کہا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے نیٹو کی قیادت میں سب سے بڑی فوجی کارروائى میں، اُس نے جنوب کے شہر مرجاہ کو طالبان سے واپس چھین لیا ہے۔

افغان عہدے داروں نے جمعرات کے روز شہر کے سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں مرجاہ پر ملک کے سبز، سرخ اور سیاہ پرچم کو لہرادیا۔

فوج نے پچھلے ہفتے شہر کی مارکٹ پر قومی پرچم لہرادیا تھا۔لیکن عہدے داروں نے کہا ہے کہ جمعرات کے روز پرچم کُشائى، طالبان کے سابق مضبوط ٹھکانے پر سِولیّن حکومت کی بحالی کی ایک علامتی تقریب ہے۔

صوبہ ہلمند کے اس شہر میں حکومت کی سروسوں کو اُس بڑی فوجی کارروائى کے دوسرے مرحلے میں بحال کیا جائے گا، جس میں نیٹو اور افغانستان کے 15 ہزار فوجی حصّہ لے رہے ہیں۔

شہر کے نئے علاقائى منتظم منگل کے روز سے مرجاہ میں مقیم ہیں۔ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ علاقے میں کہیں کہیں لڑائى جاری ہے، لیکن کچھ لوگوں نے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کردیا ہے۔

یہ فوجی کارروائى 13 فروری کو شروع ہوئى تھی۔مرجاہ میں امریکی مَرینز کے کمانڈر، بریگیڈئیر جنرل لیری نکلسن نے کہا ہے کہ طالبان کو علاقے سے بے دخل کرنے کی کارروائى ابھی آدھے راستے تک بھی نہیں پہنچی ہے۔

مرجاہ میں نیٹو کی حکمت عملی یہ ہے شہر سے طالبان کو بے دخل کرتے ہی تیزی کے ساتھ وہاں افغان پولیس اور سرکاری ملازمین کوتعینات کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان اور ضروری سروسوں کو بحال کردیا جائے۔

اسی دوران برطانیہ کے وزارتِ دفاع نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ جنوبی افغانستان کے صوبے قندھار میں کسی دھماکےمیں ایک برطانوی ائر مین ہلاک ہوگیا۔

ائر مین بدھ کے روز قندھار میں فضائیہ کے اڈے کے شمال میں گشت کرتے ہوئے دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہوا تھا۔

اور جمعرات کے روز جنوبی کوریا کی قانون ساز اسمبلی نے 350 فوجیوں کو افغانستان میں تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

یہ فوجی ، جولائى سے 2012 تک صوبہ پروان میں کام کرنے والے جنوبی کوریا کے شہریوں کو تحفظ فراہم کریں گے۔

XS
SM
MD
LG