رسائی کے لنکس

logo-print

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ رابطے: رپورٹ


(فائل)

امریکہ کے ایک نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں ایک طویل عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی حکام اور افغان طالبان کے سابق رہنماؤں کے درمیان رابطے ہوئے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے 'این بی سی' نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں یہ بات افغان طالبان کے تین عسکری کمانڈروں نے بتائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ بات چیت افغانستان، قطر اور متحدہ عرب امارات میں ہوئی ہے۔

ادھر کابل میں افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل (شوریٰ عالی صلح) کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ’’اِسی ہفتے افغان، امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا چار فریقی اجلاس افغان امن عمل پر گفتگو کرے گا‘‘۔

افغان ذرائع کے مطابق، ’’افغان مذہبی کونسل کا ایک وفد قطر کے دارالحکومت دوحا کا دورہ کرے گا، جس میں طالبان اور اعلیٰ امن کونسل کے مابین براہِ راست بات چیت ہوگی۔ تاہم، اس کی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہوا۔

تاہم، محمد اکرم خپلواک، ’شوریٰ عالی صلح‘ کے چیف سکریٹری نے ملاقات کی تفصیل نہیں بتائی۔ ایک ذریعے نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ اجلاس سعودی عرب یا کابل میں منعقد ہوگا۔

مارچ، 2018ء کو واشنگٹن میں افغان، امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ایک ملاقات ہوئی تھی۔

دریں اثنا، خپلواک نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ مستقبلِ قریب میں افغان اور پاکستانی مذہبی علما کا ایک اجلاس ہوگا جس میں افغانستان کی لڑائی کی قانونی حیثیت کے بارے میں افغان مذہبی علما کی جانب سے دیے گئے فتوے پر گفتگو ہوگی۔ اُنھوں نے امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کے بارے میں ’این بی سی‘ کی رپورٹ سے متعلق بھی گفتگو کی۔

'این بی سی' کے مطابق، اس بات چیت میں شامل ایک مذاکرات کار نے اسے بتایا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحا کے ایک مقامی ہوٹل میں ہونے والی بات چیت کے مختلف ادوار میں "کبھی بھی پانچ سے زیادہ " امریکی (عہدیدار) شامل نہیں تھے۔

تاہم ابھی تک رپورٹ کی نہ تو کسی اور ذریعے سے تصدیق ہو سکی ہے اور نہ ہی افغان طالبان کی طرف سے اس پر کوئی ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

دوحا میں ہونے والی بات چیت میں شریک مذاکرات کار کے مطابق ملاقاتیں خوشگوار ماحول میں ہوئیں لیکن اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

امریکی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ وہ طالبان کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا کیونکہ ان سب نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر این بی سے بات کی۔

طالبان نے ان مذاکرات کے لیے سابق عسکریت پسند کمانڈروں اور سیاسی رہنماؤں کی خدمات حاصل کی تھیں جن میں بعض ایسے افراد بھی تھے جنہیں افغانستان یا امریکہ کی طرف سے حراست میں رکھا گیا تھا اور اب وہ اس خطے میں مقیم ہیں اور اپنا اپنا ذاتی کاروبار کر رہے ہیں۔

افغان طالبان اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ وہ امریکہ یا صدر اشرف غنی کی سربراہی میں قائم افغان حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کر رہے ہیں۔

دوسری طرف امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان نے ایسی کسی بھی بات چیت کی تصدیق نہیں کی۔ البتہ محکمۂ خارجہ نے یہ ضرور کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اس افغان تنازعے کو حل کرنے کی خواہاں ہے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "امریکہ افغان حکومت کی مشاورت سے امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام ممکنہ راہیں تلاش کر رہا ہے۔"

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ "افغانستان کے سیاسی مستقبل سے متعلق مذاکرات طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہوں گے۔"

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا یہ بیان امریکہ کی سرکاری پالیسی کا اعادہ کرتا ہے جس میں بات چیت کے لیے کابل کے کردار کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "امریکہ افغانوں کی قیادت اور افغانوں کی شمولیت میں ہونے والے مذاکرات کی حمایت کے لیے تیار ہے۔"

'این بی سی' کے مطابق اسے ایک طالبان کمانڈر نے بتایا ہے کہ امریکی حکام اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے لیے ایک اور ملاقات قبل ازیں رواں ماہ متحدہ عرب امارت میں بھی ہوئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ "امریکی متحدہ عرب امارات اور کابل میں ہمارے سابق ارکان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اور یہ سابق طالبان پیغام رسانی کے مختلف طریقوں کے ذریعے ہمیں بات چیت سے آگاہ کرتے ہیں۔"

طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ امریکی حکام حالیہ مہینوں میں افغان امن عمل میں "غیر معمولی" دلچسپی لے رہے ہیں۔

امریکہ حکام اور افغان طالبان کے درمیان بالواسطہ ہونے والی اس بات چیت سے متعلق خبر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور افغان صدر اشرف غنی نے رواں ہفتے ایک بار پھر طالبان کو مذاکرات کی میز پر آنے کی پیش کش کی ہے۔

تاہم طالبان ان کی مذاکرات کی پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کرتے آئے ہیں۔

لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں افغانستان اور طالبان سے متعلق سامنے آنے والی خبروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں اور ان کے بقول طالبان کو بالواسطہ ذرائع سے قائل کرنے کی کوشش بھی جاری ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG