رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان سے متعلق امریکہ سے رابطے مزید مثبت نتائج کا باعث بنیں گے: پاکستان


فوج کے ترجمان، میجر جنرل آصف غفور نے جمعے کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’پاکستان افغانستان میں امن کا متمنی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان دیگر تمام فریق کے ساتھ حتی الوسع تعاون کر رہا ہے‘‘

کئی برسوں کی الزام تراشی کے بعد، یوں لگتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کی فوجوں کے مابین حکمتِ عملی پر مبنی انسداد دہشت گردی کی نوعیت کا تعاون جاری ہے، تاکہ مذاکرات ہی کے ذریعے افغانستان میں لڑائی کے تصفیے کو فروغ دیا جا سکے۔

امریکی اور پاکستانی فوجی اہلکاروں نے باہمی تعلقات میں ایک مثبت رجحان کو مانا ہے، جس متعلق دونوں فریق نے رابطے جاری رکھنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

فوج کے ترجمان، میجر جنرل آصف غفور نے جمعے کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’پاکستان افغانستان میں امن کا متمنی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان دیگر تمام فریق کے ساتھ حتی الوسع تعاون کر رہا ہے‘‘۔

میجر جنرل غفور جمعرات کو چوٹی کے ایک امریکی جنرل کے بیان پر رد عمل کا اظہار کر رہے تھے، جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ ’’افغانستان میں پائیدار سیاسی تصفیے کے مجموعی مقصد کے حصول کے سلسلے میں‘‘ پاکستان سے تعاون ’’کلیدی اہمیت کا حامل ہے‘‘۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’’امکان اس بات کا ہے کہ متعلقہ فریق کے مابین فوج کا فوج سے رابطہ مجموعی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے مزید مثبت نتائج برآمد کرنے کا باعث بنے‘‘۔

ایک روز قبل واشنگٹن میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے امریکی سنٹرل کمان کے کمانڈر، جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے فوجی سربراہ، جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ’’انتہائی شاندار تعلقات‘‘ قائم کیے ہیں۔ اُنھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ دیگر امریکی اہلکار بھی پاکستان کے ہم منصبوں کے ساتھ رابطہ رکھے ہوئے ہیں، اور یہ کہ ’’بات چیت اہمیت رکھتی ہے‘‘۔

امریکی جنرل نے کہا کہ ’’ہم پاکستان کے ساتھ قریبی تعلق جاری رکھیں گے، تاکہ وہ اُس اہم کردار کو ادا کرسکے جس کے بارے میں اُس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایسا کرے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہ پیش رفت کے لیے قدم بڑھائے‘‘۔

گذشتہ اگست میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کی جس نئی حکمتِ عملی کا اعلان کیا تھا، اُس میں تب تک پاکستان کو فوجی امداد بند رہے گی جب تک وہ افغانستان اور دیگر علاقائی ملکوں میں حملوں میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کُن اقدام نہیں کرتا۔ اِس اقدام کے نتیجے میں باہمی تعلقات کشیدہ ہوئے اور سفارتی روابط بند ہو کر رہ گئے، جب تک چند ہفتے قبل امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے بحال کیے۔

امریکی اور افغان حکام ایک مدت سے الزام لگاتے آئے ہیں کہ طالبان رہنما اور حقانی نیٹ ورک پاکستان کے ’’محفوظ ٹھکانوں سے‘‘ افغان بغاوت کا اہتمام کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG