رسائی کے لنکس

logo-print

وردک فضائی کارروائی میں 13 شہری ہلاک ہوئے: رپورٹ


غزنی (فائل)

اقوام متحدہ کے اعانتی مشن برائے افغانستان کی ابتدائی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ اتوار کے روز صوبہٴ میدان وردک میں ہونے والے فضائی حملے میں 12 شہری ہلاک ہوئے، جو کارروائی سرکاری افواج نے کی تھی۔

ادارے کی جانب سے منگل کے روز کابل میں جاری کیے گئے ایک اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی 23 ستمبر کو میدان وردک کے جگھاتو ضلعے میں ملا حافظ نامی گاؤں میں کی گئی۔ ہلاک ہونے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جب کہ یہ خواتین اور بچے تھے۔

ہلاک ہونے والے 10 بچوں کی عمر چھ سے 15 برس تھی، جن میں آٹھ لڑکیاں تھیں۔

بیان کے مطابق، ادارہ اِن دنوں ملک کے دیگر حصوں میں فضائی کارروائی میں ہلاک ہونے والی سولین آبادی کے اعداد کا جائزہ لے رہا ہے۔ مشن حالیہ فضائی کارروائیوں سے متعلق تصدیق کر رہا ہے آیا اِن شہری ہلاکتوں کی ذمہ دار افغان یا بین الاقوامی افواج ہیں۔

ادارے کو اس جائزے کا ذمہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دیا ہے کہ وہ مسلح تنازع میں شہری آبادی کے تحفظ سے متعلق اعداد و شمار اکٹھے کرے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ادارہ حالیہ واقعات کے بارے میں اضافی حقائق کی چھان بین کرے گا، تاکہ ایسے اقدامات کیے جائیں اور آئندہ کارروائیوں میں شہری آبادی نشانہ نہ بنے۔

فضائی کارروائیوں کے دوران شہری آبادی کے ہلاک و زخمی ہونے میں اضافے پر مشن نے اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریق پر زور دیا ہے کہ درکار اقدامات بروقت کیے جائیں تاکہ شہری آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔

ایک اندازے کے مطابق، 2018ء کی پہلی شش ماہی میں افغان تنازعے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کا سات فی صد فضائی کارروائیوں میں ہلاک ہوا۔

سال 2017 میں اِسی عرصے کے دوران فضائی حملوں میں کُل 353 لوگ ہلاک و زخمی ہوئے، جن میں سے 149 ہلاک جب کہ 204 زخمی ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG