رسائی کے لنکس

logo-print

غزنی: بم دھماکے میں تین امریکی فوجی ہلاک


صوبہٴ وردک

طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ کابل میں جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’زخمی ہونے والے فوجی اہلکار اور کانٹریکٹر کو محفوظ مقام کی جانب منتقل کیا گیا ہے اور اُنھیں طبی امداد دی جا رہی ہے‘‘

افغانستان میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے کشیدگی کے شکار وسط مشرقی شہر، غزنی کے قریب ایک دیسی ساختہ بم کے دھماکے میں تین امریکی فوجی ہلاک جب کہ تین زخمی ہوئے۔

دھماکے میں ایک امریکی کانٹریکٹر بھی زخمی ہوا۔

کابل میں جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’زخمی ہونے والے فوجی اہلکار اور کانٹریکٹر کو محفوظ مقام کی جانب منتقل کیا گیا ہے اور اُنھیں طبی امداد دی جا رہی ہے‘‘۔ بیان میں مزید تفصیل بیان نہیں کی گئی۔

طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

غزنی اِسی نام کے افغان صوبے کا دارالحکومت ہے، جہاں حالیہ مہینوں کے دوران طالبان نے کئی اضلاع پر چڑھائی کی ہے۔ باغی گروپ حالیہ دِنوں کے دوران دارالحکومت پر قبضے کے لیے پنچہ آزمائی کرتا رہا ہے۔

منگل کے روز ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اس سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجی اہل کاروں کی کُل تعداد 11 ہوگئی ہے۔

کچھ ہی گھنٹے قبل، نیٹو کے ’رزولوٹ سپورٹ مشن‘ نے ہفتے کے روز امریکی فوجی کی ہلاکت کے واقعے کی چھان بین سے متعلق تردید جاری کی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ اس بات کا امکان ہے کہ سارجنٹ لینڈرو جاسو کی موت افغان ساتھی کے ہاتھوں ’’حادثاتی طور پر واقع ہوئی‘‘۔

مشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے ’’اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ اُنھیں جان بوجھ کر ہلاک کیا گیا‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی اہل کار کی ہلاکت ایسے میں ہوئی جب جنوب مغربی افغان صوبہٴ نمروز میں القاعدہ کے شدت پسندوں کو ٹھکانے لگانے کی کارروائی جاری تھی۔ نمروز کی سرحدیں ایران کے ساتھ ملتی ہیں۔

بیان میں اس جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ ’’ابتدائی انٹرویوز سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ المناک حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ساتھی فوج دوبدو لڑائی میں مصروف تھی، ایسے میں جب القاعدہ کے لڑاکوں کا قلع قمع کرنے کے لیے کئی اطراف سے ناکہ بندی کی گئی تھی‘‘۔

بین الاقوامی فوجی اتحاد کے امریکی کمانڈر، جنرل اسکاٹ مِلر کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’سارجنٹ جاسو کی ہلاکت کی کمی نہ صرف اُن کے اہل خانہ بلکہ اُن کے احباب بھی محسوس کر رہے ہیں، اور وہ بھی جنھوں نے اُن کی ماتحتی میں کام کیا اور وہ جو ہمارے ملک اور ہمارے اتحادیوں کی حفاظت پر مامور اس مشن میں شامل تمام اہل کار کر رہے ہیں‘‘۔

افغانستان میں اس وقت تقریباً 14000 امریکی فوجی تعینات ہیں، جو دہشت گرد گروپوں کے خلاف لڑ رہے ہیں، اور طالبان سرکشی سے نبردآزما ہونے کے لیے افغان افواج کی مشاورت اور تربیت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG