رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: خود کُش حملے میں 16 عام شہری ہلاک



وسطی افغانستان کی ایک مارکیٹ میں جمعرات کے روز ایک خود کُش حملہ آورنے خود کو دھماکے سے اُڑاکر کم سے کم 16 عام شہریوں کو ہلاک اور ایک درجن سے زیادہ لوگوں کو زخمی کردیا۔

پولیس نے کہا ہے کہ یہ حملہ صوبہ ارضگان کے شہردِیراوُد میں کیا گیا۔ حملے کے وقت بازار میں گاہکوں اور تاجروں کا ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تین بچّے بھی شامل ہیں۔

اس حملے سے ایک دن پہلے اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ2001 کے بعد سے، جب امریکہ کے زیرِ قیادت فوجوں نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو ختم کیا تھا، پچھلے سال اُس ملک میں جنگی کارروائیوں میں عام شہریوں کا جانی نقصان سب سے زیادہ ہوا ۔

کابل میں اقوامِ متحدہ کے مِشن میں انسانی حقوق کے دفتر کی سربراہ نورا نِلاند نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 2009کے دوران دو ہزار 412 عام افغان شہری ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے دو تہائى حکومت کے مخالف جنگجوؤں کے حملوں میں مارے گئے تھے۔

عہدے دار کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کی 25 فیصد ہلاکتوں کا سبب نیٹو اور امریکہ کی فوجوں سمیت، حکومت کی حامی فوجوں کی کارروائیاں تھیں۔ اور یہ تعداد اُس سے پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہے۔

عام شہریوں کی بیشتر ہلاکتیں باغیوں کے گھریلو ساخت کے بموں کے دھماکوں اور خودکُش حملوں میں ہوئیں۔ جبکہ اتحاد کے فضائى حملے، 60 فیصد ہلاکتوں کا سبب بنے۔

گذشتہ برسوں کے مقابلے میں پچھلے سال بین الاقوامی فوجوں، خاص طور سے امریکہ اور برطانیہ کی فوجوں کا جانی نقصان بھی سب سے زیادہ ہوا۔

XS
SM
MD
LG