رسائی کے لنکس

logo-print

قندھار کی صورتِ حال واضح ہونے میں مہینے لگ سکتے ہیں: میک کرسٹل


شمالی علاقے قُندوز اور مرکزی غزنی ، اور جنوبی صوبہ ٴ ہلمند میں رات کو کی جانے والی کارروائیوں کے دوران، نیٹو اور افغان افواج نے کم سےکم 40باغیوں کو ہلاک کیا

افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر ، جنرل سٹینلی میک کرسٹل نے کہا ہے کہ سال کے اواخر میں جاکر کہیں یہ بات واضح ہوگی آیا قندھار کے کلیدی شہر میں افغان حکومت کا کنٹرول مؤثر بنانے کی کوششیں کامیاب ثابت ہوئی ہیں ۔

اُنھوں نے یہ بات جمعرات کے روز پینٹاگان میں اپنی تقریر میں کہی۔

میک کرسٹل نے افغان فوج کے ساتھ ساتھ، امریکی اور نیٹو افواج کی قندھار میں تعداد اور کارروائیاں بڑھانے کے معاملے پر مشکلات کا ذکر کیا۔

جنرل نے کہا کہ نتیجہ خیز مرحلہ تب آئے گا، جب مقامی آبادی یہ تسلیم کرے گی کہ شہر میں سلامتی کی صورتِ حال میں بہتری آئی ہے۔

میک کرسٹل نے کہا کہ قبائلی رہنماؤں کو منصوبہ بندی کے عمل میں ملوث کیا جاتا رہے گا، لیکن اُن کے پاس مخصوص فوجی کارروائیوں کے حوالے سے آخری فیصلے کا اختیار نہیں ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دینا اُن کی اولین سٹریٹجک ترجیح ہے۔

جمعرات کے تشدد کے واقعات کے بارے میں عہدے داروں نے بتایا ہے کہ ملک کے شمالی علاقے قُندوز اور مرکزی غزنی ، اور جنوبی صوبہ ٴ ہلمند میں رات کو کی جانے والی کارروائیوں کے دوران، نیٹو اور افغان افواج نے کم سے کم 40باغیوں کو ہلاک کیا۔

صوبہٴ قندھار میں نیٹو نے بتا یا ہے کہ فوجوں نے ایک طالبان کمانڈر کو پکڑلیا ہے، جو جمعرات کے دِن ضلع گھورک میں اتحادی فوجوں پر ہونے والے حملوں کے ذمہ دار ہیں۔

XS
SM
MD
LG