رسائی کے لنکس

'سی پیک میں شرکت بھارت تک تجارتی رسائی سے مشروط ہے'


افغان صدر اشرف غنی (فائل فوٹو)

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان ان کے ملک کو واہگہ کی سرحد کے ذریعے بھارت تک رسائی نہیں دیتا تو افغانستان بھی اسے اپنے ہاں سے وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی نہیں دے گا اور ایسی صورتحال میں کابل چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ نہیں بنے گا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کو نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر غنی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں اسے راستہ منتخب کرنے کی ضرورت ہے اور ان کے بقول افغانستان اس انتخاب کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔

گزشتہ ہفتے ہی افغان صدر نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت پاکستانی ٹرکوں کو افغانستان میں سامان لے کر جانے کی اجازت نہیں ہو گی اور یہ سامان طورخم اور سپن بولدک کی سرحدی گزرگاہوں سے افغان ٹرکوں کے ذریعے ہی منتقل کیا جائے گا۔

افغان صدر کے اس بیان پر پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی برائے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے رکن رانا محمد افضل خان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کے حق راہداری کو تسلیم کرتے ہوئے اسے بھارت کے لیے کراچی کی ذریعے راستہ دے رکھا رکھا ہے لیکن واہگہ اور اٹاری کی سرحدی گزرگاہ کے ذریعے رسائی دینا پاکستان کے لیے فی الوقت ممکن نہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "وہ (افغانستان) جب واہگہ اور اٹاری سے (رسائی) چاہتا ہے تو ہمارے سلامتی کے بڑے سنگین تحفطات ہیں، پاکستان کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گا جس سے اس کی سلامتی پر سمجھوتا ہو۔"

بھارت اور افغانستان کے درمیان تعلقات کے تناظر میں پاکستان یہ دعویٰ کرتا آیا ہے کہ نئی دہلی افغان سرزمین کو اس کے خلاف استعمال کر رہا ہے لیکن دونوں ملک ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

افغانستان کا کہنا ہے کہ قطع نظر اس کے کہ کابل کے دیگر ملکوں کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں پاکستان کو افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار رکھنے چاہیئں۔

رانا افضل کہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے اور سلامتی کے تحفظات کے پیش نظر پاکستان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ افغانستان کے لیے واہگہ کی سرحد کھولی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کو اپنے لیے مفید سمجھے گا تو وہ اس کا حصہ بن سکتا ہے۔

پاکستان کو وسطی ایشیا تک افغانستان کے ذریعے راستہ نہ دینے کے انتباہ پر رانا افضل کا کہنا تھا کہ اس پر جامع بات چیت ہونی چاہیے اور افغانستان کے صدر جب پاکستان آئیں گے اور ان امور پر اگر بات ہوتی ہے تو پھر پاکستان بھی اس بارے میں غور کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG