رسائی کے لنکس

logo-print

آفتاب احمد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری، موت کی وجہ واضح نہیں


رپورٹ کے مطابق، ’’لاش پر تشدد، نیل اور اندرونی چوٹوں کے واضح اور مختلف سائز کے نشانات ہیں‘‘؛ اور یہ کہ ’’موت کی وجہ کا تعین کرنے کے لئے اب کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ آنے تک کا انتظار کرنا ہوگا‘‘

کراچی ... متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن آفتاب احمد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’آفتاب احمد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘‘۔ تاہم، رپورٹ میں واضح طور پر موت کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ’’لہذا، وجہ کا تعین کرنے کے لئے اب کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ آنے تک کا انتظار کرنا ہوگا‘‘۔

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے، جن کے لئے آفتاب احمد رابطہ کار کے فرائض انجام دیتے تھے، جمعرات کو میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا ”ہم عرصے سے کہہ رہے تھے کہ سب کچھ اچھا نہیں۔ کہیں نہ کہیں گڑ بڑ ہے۔ اچھا ہے آفتاب احمد کے معاملے میں تحقیق سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔“

آفتاب احمد کی لاش کا پوسٹ مارٹم جوڈیشل مجسٹریٹ کلیم اللہ کَلوڑ کی نگرانی میں جناح اسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے کیا۔ رپورٹ کی ایک کاپی ’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے کو بھی موصول ہوئی ہے، جس پر نمبر 260 درج ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، ’’آفتاب احمد کو صبح آٹھ بجنے میں پانچ منٹ پر جناح اسپتال لایا گیا۔ پولیس نے دفعہ 176 کے تحت ابتدائی کارروائی مکمل کی۔ تاہم، ایم کیو ایم کا یہ مؤقف تھا کہ آفتاب احمد کی موت رینجرز کی حراست میں ہوئی۔ اس لئے، پوسٹ مارٹم کے لئے مجسٹریٹ کلیم اللہ کَلوڑ کی نگرانی میں دوپہر ڈھائی بجے شروع ہوسکا۔ پوسٹ مارٹم ڈیڑھ گھنٹے میں مکمل ہوا‘‘۔

رپورٹ میں موت کا وقت’’ 8 بج کر 20 منٹ بروز منگل بتاریخ 3 مئی‘‘ درج ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ’’لاش پر تشدد، نیل اور اندرونی چوٹوں کے واضح اور مختلف سائز کے نشانات ہیں‘‘۔

رپورٹ میں آفتاب کی ’’پیٹھ، ٹانگوں، کولہوں اور جسم کے دیگر حصوں پر بھی تشدد کے نشانات‘‘ کا تذکرہ موجود ہے۔ تاہم، کسی بھی جان لیوا زخم ملنے کا ذکر نہیں، جس سے یہ واضح ہوسکے کہ موت کی اصل وجہ کیا تھی۔ اب یہ وجہ کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ سے ہی سامنے آسکتی ہے۔

آفتاب احمد کو رینجرز نے یکم مئی کو ایف بی ایریا سے گرفتار کیا تھا اور اگلے دن انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 90 روزہ ریمانڈ پر رینجرز کی تحویل میں دیا تھا۔ انہیں منگل کو ’’تشویشناک حالت میں‘‘ جناح اسپتال لایا گیا، جہاں وہ ہنگامی امداد ملنے کے باوجود دم توڑ گئے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آفتاب احمد کے انتقال کے حقائق جاننے کیلئے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے اس معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی ہدایت کی تھی، جبکہ ڈی جی رینجرز بلال اکبر کی ہدایت پر اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیکٹر کمانڈر، جن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جلد از جلد تحقیقات مکمل کرکے حقائق سامنے لائے گی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے جمعرات کے روز میڈیا سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر جنرل راحیل شریف کی جانب سے انتقال کی تحقیقات کے حکم پر شکریہ ادا کرتے ہوئے، امید ظاہر کی ہے کہ ’’انصاف کے تقاضے جلد از جلد پورے ہوں گے‘‘۔

فاروق ستار نے اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ ’’سیاسی برادری میں سے کسی نے بھی آفتاب کے اہل خانہ یا ایم کیو ایم سے تعزیت نہیں کی، جبکہ وزیر اعظم نے بھی ہمدردی کا اظہار نہیں کیا‘‘۔

XS
SM
MD
LG