رسائی کے لنکس

logo-print

استعفے اور ریٹائرمنٹ، پاکستان ہاکی کا مستقبل کیا ہوگا؟


پاکستانی ٹیم، ورلڈ کپ ہاکی 2018 میں شرکت کا ایک منظر

ہاکی ورلڈ کپ 2018ء میں بدترین کارکردگی پر پاکستان ہاکی ٹیم شدید تنقید کی زد میں ہے۔ ٹیم منیجر حسن سردار اور مینجمنٹ اراکین کے استعفوں کے بعد گول کیپر عمران بٹ نے بھی جمعے کو ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔

کُل 156 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے عمران بٹ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر پیغام میں انٹرنیشنل ہاکی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔

ورلڈ کپ میں شکست کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن کی مینجمنٹ کے تمام اراکین نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے جس کے بعد ورلڈ کپ میں شکست کے اسباب تلاش کرنے والی کمیٹی بھی پریشانی کا شکار ہے کہ اراکین کے استعفوں کے بعد اُن کے خلاف انکوائری بے سود ہوگی۔

اس سے قبل ٹیم منیجر حسن سردار بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ حسن سردار نے ٹیم میں جونیئر کھلاڑیوں کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ورلڈ کپ تک ٹیم کے ساتھ تھے، اب مزید کام نہیں کریں گے۔

قومی ہاکی ٹیم کے کپتان رضوان سینئر نے ٹیم انتظامیہ کی جانب سے سینئر کھلاڑیوں کو ناقص پرفارمنس کا ذمے دار ٹھہرانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کپتان کو بااختیار بنایا جائے۔

انہوں نے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے لئے غیرملکی کوچ کی تقرری کو واحد حل قرار دیا ہے۔

رضوان سینئر نے شکوہ کیا کہ ٹیم منتخب کرتے وقت کپتان سے کوئی رائے نہیں لی جاتی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیڈریشن کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کا قیام مضحکہ خیز ہے، فیڈریشن شکست کا ملبہ کھلاڑیوں پر گرا کر خود بچنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ چار مرتبہ کی عالمی چیمپئن پاکستان ہاکی ٹیم ورلڈ کپ 2018ء میں کوئی بھی میچ جیتے بغیر پری کوارٹر مرحلے میں ہی ایونٹ سے باہر ہوگئی تھی۔

پول میچز میں جرمنی سے 1-0 اور نیدر لینڈز سے 5-1 سے شکست کھائی تھی جبکہ ملائشیا کے ساتھ میچ 1-1 سے برابر رہا تھا۔

پری کوارٹر فائنل میں بیلجیم نے 5-0 کے بڑے مارجن سے ہرایا تھا۔

مایوس کن صورتحال میں ایک بات حوصلہ افزا ہے کہ پری کوارٹر فائنل مرحلے میں شکست کے باوجود پاکستانی ٹیم کی ایک درجہ ترقی ہوئی ہے اور وہ تیرہویں سے 12 ہویں نمبر پر آگئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG