رسائی کے لنکس

مانچیسٹر حملے کے بعد، متعدد تارکینِ وطن کردار کا مثالی نمونا


روزنامہ ’دی ٹیلی گراف‘ نے اِس جانب توجہ مبذول کرائی کہ دھماکے کے مقام کے قریب پھول رکھے تھے، جہاں یہ پیغام بھی تحریر تھا کہ ’’یہ وحشی جانور تھا، مسلمان نہیں تھا‘‘؛ اور یہ کہ حملہ آور ’’انصاف کے کٹہرے سے بچ نہیں سکتا: اِس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی‘‘

مانچیسٹر میں پیر کی رات ہونے والے خودکش بم حملے کے بعد برطانیہ میں دہشت گردی کا خوف و ہراس بڑھ گیا ہے، جن میں 22 افراد ہلاک اور 59 زخمی ہوئے۔ تاہم، حملے کے بعد کچھ تارکینِ وطن اور مذہبی اقلیتوں کی جانب سے کیے گئے رضاکارانہ کام اور امداد کے لیے تگ و دو کو سراہا جا رہا ہے۔

شہر بھر میں، سکھ گردواروں نے اپنے دروازے کھول دیے، ضرورتمندوں کو کھانا کھلایا اور پناہ دی۔ ’احمدیہ مسلم تنظیم‘ نے اپنے ارکان سے خون کا عطیہ دینے کے لیے کہا۔

اور، ٹیکسی ڈرائیور، جِن میں کی اکثریت مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے آکر یہاں آباد ہوئی ہے، مسافروں کو اسپتالوں، ہوٹلوں اور دیگر مقامات تک پہنچایا اور محنتانہ وصول نہیں کیا۔

’وائس آف امریکہ‘ کی صومالی سروس نے46 برس کے ’اوبر ڈرائیور‘، عبد الرحمٰن اسحٰق محمد سے گفتگو کی، جو اُس وقت بم دھماکے کے مقام سے دو میل کے فاصلے پر تھا۔ دھماکے کی آواز سن کر، محمد کو پتا لگا کہ کوئی گر بڑ ہے، اور وہ فوری طور پر وہاں پہنچا تاکہ درکار امدادی کام انجام دے سکے۔ محفل موسیقی کے شرکا خوف کی جس کیفیت میں تھے اور بھاگ دوڑ کر رہے تھے وہ قابل بیان نہیں۔ اُنھوں نے آٹھ افراد کو مقامی ہوٹلوں تک پہنچایا۔

’’یہی ہمارا ملک ہے‘‘

محمد نے کہا کہ اُن کا عمل برجستہ سوچ پر مشتمل تھا۔ بقول اُن کے ’’ہم یہاں مل کر رہتے ہیں۔ ہم مل کر کام کرتے ہیں اور ایکساتھ رہتے ہیں۔ اِسی لیے ہمیں یہی کچھ کرنا چاہیئے۔ جب کوئی نامناسب بات ہو تو ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیئے‘‘۔

محمد نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جس ملک نے اُنھیں سکونت میسر کی، میں اُس مہمان نوازی کا بدلہ دوں۔

اُن کے الفاظ میں ’’میں (رضاکار کے طور پر) اپنی خدمات پیش کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ ہم یہاں رہتے ہیں۔ ہماری سکونت یہیں کی ہے۔ اِسی لیے ہم خدمت سمجھ رضاکار بن رہے ہیں؛ کیونکہ یہ ہمارا ہی ملک ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم یہاں رہتے ہیں۔ برطانوی لوگ ہم سے اچھا سلوک کرتے ہیں۔ وہ ہمارا خیال کرتے ہیں‘‘۔

برطانیہ کے بہت سارے مسلمانوں کی طرح، حملے کے بعد، محمد کو جواب کی تلاش تھی۔ اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بم حملہ اُن کے مذہب کا غماز نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ قابلِ نفرت عمل ہے۔ ہم ایسی صورت حال پر قطعی طور پر خوش نہیں ہیں‘‘۔

روزنامہ ’دِی ٹیلی گراف‘ کے مطابق، ’مسلم کونسل آف گریٹ برٹین‘ نے اِنہی جذبات کا اظہار کیا، جن میں کہا گیا تھا کہ حملہ آور ’’انصاف کے کٹہرے سے نہیں بچ سکتا: اِس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی‘‘۔

اخبار نے اِس جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ دھماکے کے مقام کے قریب پھول رکھے تھے، جہاں یہ پیغام بھی تحریر تھا کہ ’’یہ وحشی جانور تھا، مسلمان نہیں تھا‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG