رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: چارلسٹن کا چرچ اتوار کو عبادت کے لیے کھول دیا گیا


چارلسٹن کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے سیاہ لباس پہن کر مارچ کیا۔ اس موقع پر مذہبی رہنماؤں نے خصوصی دعا کروائی اور لوگوں کو صبر کی تاکید کی۔

چارلسٹن میں ’ایمانوئل افریقن میتھوڈسٹ چرچ‘ حملے کے بعد اتوار کو پہلی دعائیہ تقریب منعقد کی گئی۔ گزشتہ ہفتے ایک سفید فام حملہ آور نے اس تاریخی افریقی امریکی چرچ میں بائبل کے مطالعے دوران نو افراد کو قتل کر دیا تھا۔

دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے لوگ قطار بنا کر چرچ میں داخل ہوئے جبکہ تقریب شروع ہونے کے بعد باہر کھڑے لوگوں کے ہجوم نے اس کا خیر مقدم کیا۔

تقریب میں شرکت کے لیے شہر کے باہر سے آئے ہوئے کئی لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ انہیں چرچ کے پہلو میں بٹھایا گیا جبکہ وسطی حصے میں چرچ کے اراکین کو بٹھایا گیا جو زیادہ غمگین دکھائی دے رہے تھے اور ایک دوسرے کو حوصلے دینے کے لیے بغلگیر ہو رہے تھے۔

چرچ میں پادری نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ جہاں ہم کمزور ہوں وہ ہمیں طاقت دے۔ اور جب ہم ڈھے چکے ہوں تو وہ ہمیں اٹھا کر کھڑا کرے۔‘‘

اتوار کی صبح شہر بھر کے گرجا گھروں میں دعا شروع ہونے سے قبل اظہار یکجہتی کے لیے ایک ہی وقت میں گھنٹیاں بجائی گئیں۔ دن میں مقامی لوگوں نے اظہار یکچہتی کے لیے شہر سے اس کے نواح تک انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی۔

قبل ازیں ہفتہ کو چارلسٹن، جنوبی کیرولائنا اور امریکہ کے مختلف علاقوں میں چرچ حملے میں متاثر ہونے والوں کی یاد اور ان کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لیے اجتماعات منعقد کیے۔

چارلسٹن کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے سیاہ لباس پہن کر مارچ کیا۔ اس موقع پر مذہبی رہنماؤں نے خصوصی دعا کروائی اور لوگوں کو صبر کی تاکید کی۔

نیویارک اور دیگر شہروں میں بھی ایسے ہی اجتماعات دیکھنے میں آئے۔

XS
SM
MD
LG