رسائی کے لنکس

logo-print

ریکارڈ شکن بابر اعظم کی نظریں اب ٹی ٹوئنٹی کی ٹاپ پوزیشن پر


بابر اعظم نے جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں 49 گیندوں پر سینچری مکمل کی۔

لگتا ہے بابر اعظم کو تنقید سے اتنی ہی نفرت ہے جتنی جلدی آؤٹ ہونے سے، ورنہ جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں 49 گیندوں پر نصف سینچری بنانے والے پاکستانی کپتان اگلے ہی میچ میں اتنی ہی گیندوں پر 100 کا ہندسہ عبور نہ کرتے۔

سنچورین کے مقام پر بدھ کو کھیلے گئے تیسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ بابر اعظم جنوبی افریقی بالرز پر قہر بن کر ٹوٹے اور انہوں نے کئی ریکارڈز اپنے نام کر لیے۔

سنچورین میں کھیلے گئے اس میچ میں جنوبی افریقہ نے جیت کے لیے پاکستان کو 204 رنز کا بڑا ہدف دیا جسے پاکستان نے دو اوورز قبل ہی ایک وکٹ کے نقصان پر باآسانی حاصل کیا۔

کپتان بابر اعظم کی برق رفتار سینچری اور محمد رضوان کی 73 رنز ناٹ آؤٹ اننگز اس جیت کی وجہ بنیں۔

بابر نہ صرف پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنی انٹرنیشنل میں سینچری بنانے والے پہلے کپتان بن گئے ہیں بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ایسا کرنے والے چند مخصوص کھلاڑیوں کی فہرست میں بھی شامل ہو گئے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سینچری بابر اعظم نے اسی روز بنائی جس دن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی ون ڈے رینکنگ میں انہیں ٹاپ پوزیشن ملی تھی۔ انہوں نے بھارتی ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کی جگہ سنبھالی جو لگ بھگ ساڑھے تین برس سے اس پوزیشن پر براجمان تھے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 100 رنز بنا کر بابر اعظم نے وراٹ کوہلی کو ایک ہی دن میں دوسری مرتبہ پیچھے چھوڑا ہے۔ کوہلی اب تک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں سینچری سے محروم رہے ہیں لیکن بابر کو تینوں فارمیٹس میں سینچری بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔

بابر کی نظریں ٹی ٹوئنٹی کا نمبر ون بیٹسمین بننے پر

بابر اعظم کا ستارہ ان دنوں عروج پر ہے۔ صرف 48 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں انہوں نے اب تک 1916 رنز بنائے ہیں جو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کسی بھی کھلاڑی کے مقابلے میں سب سے زیادہ رنز ہیں۔

بابر کا موازنہ اگر بھارت کے وراٹ کوہلی سے کیا جائے تو انہوں نے اپنے ابتدائی 48 میچز کے بعد 1852، آسٹریلیا کے ایرن فنچ نے 1635، ویسٹ انڈیز کے کرس گیل نے 1537 اور سابق جنوبی افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی نے 1465 رنز بنائے تھے۔

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان 915 پوائنٹس کے ساٹھ پہلے، آسٹریلیا کے ایرون فنچ 900 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے اور بابر اعظم 896 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے لیے بابر کو 20 پوائنٹس درکار ہیں

بابر اعظم پاکستانی بلے باز احمد شہزاد اور محمد رضوان کے بعد پاکستان کے تیسرے اور دنیا کے 18ویں کھلاڑی ہیں جو تینوں فارمیٹس میں سینچریاں اسکور کرچکے ہیں۔

دیگر ممالک کے کھلاڑیوں میں بھارت کے روہت شرما، سریش رائنا اور کے آر راہول کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا کے شین واٹسن، گلین میکسویل اور ڈیوڈ وارنر، نیوزی لینڈ کے برینڈن مکلم اور مارٹن گپٹل، جنوبی افریقہ کے فاف ڈوپلیسی، افغانستان کے محمد شہزاد، بنگلہ دیش کے تمیم اقبال، ویسٹ انڈیز کے کرس گیل، سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے اور تلکرنے دلشان اور آئرلینڈ کے کیون او برائن یہ اعزاز حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔

سنچورین میں بدھ کو کھیلے گئے چار میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کے تیسرے میچ میں میزبان ٹیم نے مقابلہ تو خوب کیا، لیکن وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان کو آسان حریف سمجھنے کی غلطی کر گئے۔

ٹاس جیت کر پاکستان نے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا لیکن جنوبی افریقی بلے بازوں کی دھواں دار بیٹنگ نے پاکستانی شائقین کو خوب مایوس کیا۔ اوپنرز مارکرم اور ملان نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 108 رنز جوڑے اور دونوں نصف سینچریاں بناکر آؤٹ ہوئے۔

میزبان ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں پانچ وکٹوں پر 203 رنز بنائے جو پاکستان کے لیے کسی پہاڑ سے کم نہ تھا۔ 2013 کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب پاکستانی بالرز نے ایک اننگز میں 200 سے زائد رنز دیے اور شاید کپتان نے اسی ریکارڈ کا سارا غصہ مقامی بالرز پر نکال دیا۔

وکٹ کیپر محمد رضوان کے ساتھ بابر اعظم نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو دونوں بلے بازوں نے گراؤنڈز کے چاروں اطراف دلکش اسٹروکس کھیلے۔ اس موقع پر میزبان ٹیم کے بالرز بے بس دکھائی دیے۔

بابر اعظم نے وراٹ کوہلی کا ریکارڈ توڑ دیا
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:34 0:00

دونوں بلے بازوں نے 18ویں اوور تک بغیر آؤٹ ہوئے پہلی وکٹ کی شراکت میں نہ صرف 197 رنز جوڑے بلکہ اس شاندار بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے جیت کا ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر دو اوورز قبل ہی حاصل کیا۔

بابر اعظم نے 59 گیندوں پر 122 رنز بنائے جب کہ محمد رضوان 47 گیندوں پر 73 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

یہ نہ صرف بابر اعظم کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کریئر کی پہلی سینچری تھی بلکہ کسی بھی پاکستانی کپتان کی اس فارمیٹ میں سب سے بڑی اننگز ہے۔ اس طرح وہ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی میں بطور کپتان سینچری بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے سب سے بڑی اوپننگ پارٹنرشپ

بابر اعظم اور محمد رضوان پہلی وکٹ کی شراکت میں 200 رنز تو نہ بنا سکے لیکن پاکستان کی جانب سے سب سے بڑی اوپننگ پارٹنر شپ کا ریکارڈ اپنے نام کر گئے۔

ان کی 197 رنز کی شراکت نے محمد حفیظ اور احمد شہزاد کا قائم کردہ 143 رنز کا ریکارڈ نہ صرف بہتر کیا بلکہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کسی بھی وکٹ کی شراکت میں بننے والی پارٹنرشپ میں اب وہ چوتھے نمبر پر ہیں۔

سب سے بڑی اوپننگ پارٹنرشپ کا ریکارڈ اب بھی افغانستان کے پاس ہے جو حضرت اللہ زازئی اور عثمان غنی نے 2019 میں آئرلینڈ کے خلاف 236 رنز بنا کر قائم کیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے تیز ترین ٹی ٹوئنٹی سینچری

ویسے تو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں تیز ترین سینچری کا ریکارڈ جنوبی افریقہ کے ڈیوڈ ملر کے پاس ہے جنہوں نے یہ کارنامہ 35 گیندوں پر حاصل کیا۔ لیکن پاکستان کی جانب سے تیز ترین سینچری کا ریکارڈ بابر اعظم نے اپنے نام کر لیا ہے۔

بابر نے صرف 49 گیندوں پر 100 رنز بنا کر احمد شہزاد اور محمد رضوان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

احمد شہزاد نے بنگلہ دیشن کے خلاف 58 گیندوں پر 111 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ لیکن بابر اعظم کی 122 رنز کی اننگز نے نہ صرف احمد شہزاد کو سب سے زیادہ رنز کے ریکارڈ سے محروم کیا بلکہ انہوں نے 100 کا ہندسہ عبور کرنے کے لیے صرف 49 گیندوں کا سامنا کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG