رسائی کے لنکس

logo-print

اردو والے بہت تلخ شاعری کرتے ہیں، افضال احمد سید


Afzaal Ahmed Syed

افضال احمد سید نثری نظم کے سب سے مقبول شاعروں میں سے ایک اور اردو ادب کے استاد ہیں۔ چار مجموعہ کلام اور ان پر مشتمل کلیات مٹی کی کان شائع ہو چکی ہے۔ میر کے فارسی دیوان کا ترجمہ کر چکے ہیں۔ وائس آف امریکہ ریڈیو پر ہفتے کے روز ادبی پروگرام میں ان کا انٹرویو کیا گیا۔ جسے اب ادب دوستوں کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

سوال: آپ غزلیں بھی کہتے رہے ہیں لیکن آپ نے زیادہ شدت اور دلچسپی سے نثری نظم کہی ہے۔ آپ نے اس صنف کا انتخاب کیوں کیا؟

افضال احمد سید: میں نوجوانی سے شاعری کر رہا ہوں۔ غزلیں بھی کہتا تھا اور نظمیں بھی۔ لیکن تسلی نہیں ہوتی تھی۔ میرا خیال تھا کہ شاید کبھی میں ویسی شاعری نہیں کر پاؤں گا جیسی کرنا چاہتا ہوں۔ جب کراچی آیا تو اس وقت یہاں نثری نظم کی تحریک چل رہی تھی۔ میں جن شاعروں سے ملا، ثروت حسین، عذرا عباس، انور سن رائے اور کچھ لوگ، وہ سب نظم لکھ رہے تھے یا لکھنے کے ابتدائی مرحلے میں تھے۔ قمر جمیل صاحب سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے حوصلہ افزائی کی۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ وہ ذریعہ ہے کہ جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں، وہ اس میں ممکن ہے۔ اس طرح میں اس نظم کی طرف آ گیا۔ غزلیں کچھ ابتدائی مشق کے طور پر کہی تھیں۔ بعد میں بھی کہیں۔ لیکن توجہ نظم پر رہی۔

سوال: کچھ لوگوں کی نظمیں پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ان کا انداز عالمانہ ہے۔ کیا نثری نظم کہنے کے لیے صاحب علم ہونا ضروری ہے؟

افضال احمد سید: کسی بھی طرح کی شاعری کرنے کے لیے صاحب علم ہونے کی ضرورت نہیں۔ بعض نظمیں پڑھنے والے الجھ بھی جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آپ زیادہ تفصیل میں مت جائیں۔ اگر کوئی واقعہ ہے یا کسی شخص کا ذکر ہے تو سو فیصد اسے جاننے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو تفصیل جانے بغیر بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ شاعر کیا کہنا چاہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی کوئی ضرورت نہیں کہ آپ تاریخی حوالے یا علم کے اظہار کے ساتھ شاعری کریں۔

سوال: نثری نظم میں ردھم نہیں ہوتا جسے گایا نہیں جاسکتا۔ کیا یہ اس کی خامی تصور کی جائے؟

افضال احمد سید: نہیں، میں ایسا نہیں سمجھتا۔ یہ فیصلہ بہت پہلے مقدمہ شعر و شاعری میں حالی صاحب کر گئے ہیں۔ ہم اب اسے نثری نظم نہیں کہتے، نظم ہی کہتے ہیں۔ کیونکہ اس میں تشبیہیں اور استعارے استعمال کیے جاتے ہیں اور مختصر الفاظ میں مطلب ادا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یورپ میں یا اور دوسری جگہوں پر جو نثری نظم سمجھی جاتی ہے، وہ نثر کی طرح پیراگرافس میں لکھی جاتی ہے اور شاعری کے جو محاسن ہیں، وہ اس میں کم استعمال کیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس میں بحر نہیں ہوتی لیکن ایک آہنگ ضرور ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بات جو نثری نظم میں ہے، میں اردو کی بات کر رہا ہوں کہ جیسے آپ کو غزل کے مصرعے یاد ہو جاتے ہیں، ان نظموں کی بھی سطریں پسند کرنے والوں کو یاد رہتی ہیں۔ تو کوئی چیز تو ہے اس کے اندر۔ جو عام موسیقی جیسی نہیں ہے لیکن ایک باطنی موسیقی اس میں ضرور ہے۔

سوال: بعض اوقات نثری نظم پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ اس میں سیدھی سیدھی کہانی ہے۔ اس کے بجائے افسانہ کیوں نہ لکھ لیا جائے؟

افضال احمد سید: ابھی کچھ دن پہلے میں میکسم گورکی کی مشہور کہانی ’’چھبیس مزدور اور ایک دوشیزہ‘‘ پڑھ رہا تھا۔ کہانی اس نام سے چھپی ہے لیکن مصنف نے اس کا عنوان اس طرح لکھا تھا، چھبیس مزدور اور ایک دوشیزہ: ایک نظم۔ یعنی گورکی نے اپنی شارٹ اسٹوری کو ایک نظم کہا تھا۔ جب ہم وہ کہانی پڑھتے ہیں تو نظم کا مزہ بھی آتا ہے۔ نظم کی خوبیاں اس کے اندر ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ فرق تھوڑا سا ہی ہے۔ کہانی بھی نظم ہو سکتی ہے اور نظم کو بھی آپ کہانی کی طرح پڑھ سکتے ہیں۔

سوال: مشاعروں میں غزلیں سنائی جاتی ہیں۔ کیا وقت آ گیا ہے کہ نثری نظموں کے مشاعرے یا محفلیں منعقد کی جائیں؟

افضال احمد سید: میں مشاعرے نہیں پڑھتا۔ لیکن میرے قریبی دوست مشاعروں کے ذمے دار ہو گئے ہیں، وہ مجھے کراچی لٹریچر فیسٹول وغیرہ میں بلاتے ہیں۔ میں وہاں نثری نظم پڑھتا ہوں۔ تقریباً ایک ہی جیسا اثر ہوتا ہے غزل اور نثری نظم کا۔ میرا خیال ہے کہ ہم نثری نظم لکھنے والوں نے غلطی کی کہ مشاعروں سے دور رہے۔ خود ہی یہ سوچ لیا کہ شاید سامعین اسے پسند نہیں کریں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ لوگ نثری نظم بھی سنتے ہیں اور اسے پسند اور ناپسند کرنے والوں کی تعداد تقریباً اتنی ہی ہوتی ہے جو غزل کے سلسلے میں ہوتی ہے۔ اس کا تجربہ مجھے اس وقت ہوا جب ایک ادبی تقریب کے لیے کلکتے بلایا گیا۔ وہاں ایک انجمن ترقی اردو ہے۔ انھوں نے مجھے سننا چاہا۔ میں نے کہا کہ کیا سناؤں؟ انھوں نے کہا کہ ہم نے آپ کی نظمیں پڑھ رکھی ہیں۔ وہی سنائیں۔ میں نے سنائیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ مجھے کبھی بھی شاعری سنانے کا لطف نہیں آیا۔

سوال: آپ فارسی شاعری کا ترجمہ بھی کرتے ہیں۔ کیا اردو کی نثری نظمیں اور دوسری زبانوں کی نظمیں ایک جیسی ہوتی ہیں؟

افضال احمد سید: اردو شاعری تھوڑی مختلف ہے۔ اردو شاعری کا کچھ رشتہ اگر نظر آتا ہے تو دوسری جنگ عظیم کے بعد مشرقی یورپ میں ہوئی شاعری سے ملتا ہے۔ فارسی کا مطالعہ یا شوق جو مجھے ہے وہ پرانی شاعری سے ہے۔ اٹھارہویں صدی میں جو ہمارے غزل کے شاعر تھے، میں انھیں زیادہ بہتر طور پر سمجھتا ہوں اور ترجمہ کرتا ہوں۔ جس طرح ہم اردو میں لکھ رہے ہیں، اس طرح شاعری مجھے نظر نہیں آئی۔ ہم اردو والے بہت تلخ شاعری کرتے ہیں جو شاید دنیا میں کم ہوتی ہے۔

سوال: آپ بہت سے لوگوں کے پسندیدہ شاعر ہیں۔ آپ کو کون سے شعرا پسند ہیں؟

افضال احمد سید: اتفاق یا خوش نصیبی یہ ہے کہ جو لوگ ہمیں پسند ہیں، وہ قریبی دوست بھی ہیں۔ وہ دوست نہ ہوتے تب بھی ان کی شاعری اتنی ہی پسند ہوتی۔ ذیشان ساحل بہت اچھا لکھتے تھے۔ سعید الدین بہت اچھی نظمیں لکھتے ہیں۔ لیکن انھیں کم لوگ جانتے ہیں۔ تنویر انجم ہیں۔ نسرین انجم بھٹی بہت اچھا لکھتی تھیں لیکن وہ پنجابی کی طرف راغب ہو گئی تھیں۔

سوال: آپ کی بیگم بھی شاعرہ ہیں۔ کیا آپ ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں؟

افضال احمد سید: جی نہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ خوبی ہے کہ ہم دونوں کے مزاج بہت مختلف ہیں۔ لیکن سہولت ہے کہ ہم ایک دوسرے کی نظمیں سن لیتے ہیں۔ کمنٹ بھی کر لیتے ہیں۔ ہمیں سامع کے پیچھے دوڑنا نہیں پڑتا۔

سوال: آپ کی کلیات مٹی کی کان کو کافی عرصہ ہو چکا۔ اس دوران میں کافی نظمیں کہی ہوں گی۔ کیا کوئی نیا مجموعہ کلام مرتب کر رہے ہیں؟

افضال احمد سید: مٹی کی کان کے بعد بہت کم نظمیں لکھی ہیں۔ خیال تھا کہ چھوٹا سا مجموعہ بن جائے گا لیکن ابھی تک نہیں ہوا۔ میرے مجموعہ کلام میں تھوڑی سی غزلیں تھیں۔ ان میں مزید کو شامل کر کے ایک دوست چھاپنا چاہتے ہیں۔ شاید وہ مجموعہ کسی وقت آ جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG