رسائی کے لنکس

کراچی لٹریچر فیسٹول بمقابلہ پاکستان لٹریچر فیسٹول


Ahmed Shah Talks
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:38 0:00

کراچی لٹریچر فیسٹول کے منتظم ادارے نے پاکستان لٹریچر فیسٹول کے منتظمین کے خلاف عدالت سے رجوع کرکے حکم امتناع حاصل کر لیا ہے۔ مقدمے کی سماعت جمعے کو ہوگی۔

کراچی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے دونوں فریقوں میں مصالحت کی کوششیں کی ہیں۔ لیکن، فی الحال کامیابی نہیں ملی۔

آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی انتظامیہ ہر سال کے آغاز میں کراچی لٹریچر فیسٹول کے نام سے ادبی میلہ منعقد کرتی رہی ہے۔ اس سال 9واں فیسٹول منعقد کیا گیا تھا جس میں 200 سے زیادہ ادیبوں، شاعروں، فنکاروں اور صحافیوں نے شرکت کی تھی۔

اس ادبی میلے کے بانی آکسفرڈ پریس کی سربراہ امینہ سید اور ممتاز ادیب آصف فرخی ہیں۔ ان کی کاوشوں کی بدولت نہ صرف اس فیسٹول نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے بلکہ اس کی دیکھا دیکھی دوسرے شہروں میں بھی ادبی میلوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ امینہ سید اور آصف فرخی نے کرا چی کے بعد اسلام آباد اور پھر لندن میں بھی لٹریچر فیسٹول منعقد کیے۔

کچھ عرصہ پہلے امینہ سید کو آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا اور نئے سربراہ کی آمد کے بعد کراچی لٹریچر فیسٹول کے انعقاد کی تیاریاں تاخیر کا شکار دکھائی دیں اور آصف فرخی سے بھی رابطہ نہیں کیا گیا۔

ایک ماہ پہلے انگریزی روزنامے ڈان میں اشتہار شائع ہوا جس میں آگاہ کیا گیا کہ کراچی لٹریچر فیسٹول کے شریک بانی آصف فرخی آئندہ سال یکم، 2 اور 3 فروری کو کراچی میں پاکستان لٹریچر فیسٹول منعقد کریں گے۔ انھوں نے مختلف افراد اور اداروں کو خطوط بھی بھیجے جن میں پاکستان لٹریچر فیسٹول میں شرکت اور تعاون کرنے کے لیے کہا گیا۔

اس اشتہار کے بعد آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے عدالت سے رجوع کیا اور پاکستان لٹریچر فیسٹول کے خلاف حکم امتناع حاصل کرلیا۔

احمد شاہ نے ’وائس آف امریکا‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آصف فرخی کی جانب سے انھیں بھی خط ملا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ ماضی میں کراچی لٹریچر فیسٹول کے نام سے منعقد کیا گیا ادبی میلہ اس بار پاکستان لٹریچر فیسٹول کے نام سے ہوگا۔ کے ایل ایف چونکہ آکسفرڈ پریس کا برانڈ ہے اس لیے انھوں نے اس پر اعتراض کیا اور عدالت چلے گئے۔

احمد شاہ نے کہا کہ کوئی بھی شخص ادبی میلہ منعقد کرسکتا ہے۔ اس لیے آصف فرخی کو روکا نہیں جا سکا۔ لیکن، اصل مسئلہ تاریخوں کا ہے کیونکہ دونوں میلوں کا اعلان ایک ہی تاریخوں میں کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ مسئلہ اس طرح حل ہو کہ ایک دو ہفتوں کے فرق سے دونوں فیسٹول منعقد کیے جائیں۔

’وائس آف امریکا‘ نے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس سے رابطہ کیا تو ایک اہل کار نے بتایا کہ فیسٹول معمول کے مطابق منعقد کیا جائے گا۔ آکسفرڈ پریس کی ویب سائٹ پر بھی 10ویں فیسٹول کا اعلان موجود ہے لیکن تاریخیں نہیں بتائی گئیں۔

امینہ سید کے دور میں نہ صرف ادبی میلے باقاعدگی سے منعقد کیے گئے بلکہ اردو ادب کی کتابوں کے کئی سلسلے شائع کیے گئے۔ ان میں الف لیلہ، داستان امیر حمزہ، سعادت حسن منٹو کی کلیات، محمد خالد اختر کی کتابیں، میر تقی میر کی فارسی شاعری کا ترجمہ، بڑے افسانہ نگاروں کے افسانوں کے انتخاب اور بڑے شعرا کے کلام کے انتخاب شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG