رسائی کے لنکس

logo-print

گوجرانوالہ: مبینہ توہین پر احمدی برادری کے تین افراد ہلاک


توہین آمیز مواد سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر شیئر کرنے کے باعث مشتعل افراد نے احمد برادری کے گھر کو نذر آتش کر دیا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں مبینہ طور پر توہین آمیز مواد سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر شیئر کرنے کے باعث مشتعل افراد نے احمدی برادری کے گھروں کو نذر آتش کر دیا۔

جس سے ایک خاتون اور دو کم عمر بچیوں سمیت تین افراد ہلاک جب کہ چار زخمی ہو گئے۔

مبینہ توہین آمیز تصویر فیس بک پر شیئر کرنے کے بعد اطلاعات کے مطابق عرفات کالونی میں واقع احمد برادری کے لوگوں کے گھروں کے باہر مقامی لوگ احتجاج کر رہے تھے کہ صورت حال کشیدہ ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران صورت حال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب مبینہ طور پر گھر کے اندر سے مبینہ طور پر فائرنگ سے مشتعل ہجوم میں شامل ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔

گوجرانوالہ کی عرفات کالونی میں احمد برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں کی تعداد چھ سے آٹھ بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق علاقے میں اضافی نفری بجھوا دی گئی ہے اور صورت حال پر قابو پایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی میں ایک احمدی ماہر امراض قلب ڈاکٹر مہدی علی قمر کو صوبہ پنجاب کے علاقے ربوہ میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر مہدی اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ ربوہ میں قبرستان اپنے بزرگوں کی قبروں دعا کے لیے گئے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار افراد نے اُن پر فائرنگ کر دی۔

ڈاکٹر مہدی کی اہلیہ اور بیٹا فائرنگ سے محفوظ رہے۔

XS
SM
MD
LG