رسائی کے لنکس

وزیرِ داخلہ پر حملے کے آئندہ عام انتخابات پر ممکنہ اثرات


پاکستانی پارلیمان کا ایک منظر (فائل فوٹو)

ایک سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا، "کون الیکشن مؤخر کرے گا؟ اور کیوں کرے گا؟ یہ عوام اُس کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔"

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال پر حملے کے بعد جہاں ملک میں سکیورٹی کی صورتِ حال میں سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں وہیں آئندہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے بارے میں بھی ایک بار پھر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

لیکن ملک کے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے پیر کو اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اُن کی جماعت کسی صورت انتخابات میں تاخیر برداشت نہیں کرے گی۔

ایک سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا، "کون الیکشن مؤخر کرے گا؟ اور کیوں کرے گا؟ یہ عوام اُس کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔"

دریں اثنا وزیرِ مملکت برائے اُمورِ داخلہ طلال چوہدری نے فیض آباد میں دھرنا دینے والی جماعت 'تحریکِ لبیک پاکستان' کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ احسن اقبال پر جو حملہ ہوا یہ "اُنھیں لوگوں کے سر پر ہاتھ رکھنے کا نتیجہ ہے۔"

طلال چوہدری نے انتخابات کے مؤخر ہونے سے متعلق قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "اپنے ذہن میں کسی جگہ نہ لائیں۔۔۔ کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے لیکن انتخابات میں تاخیر نہیں ہونے دیں گے۔"

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں سکیورٹی کے ذمہ دار وزیر پر حملے سے پاکستان کے تشخص کو بھی دھچکا لگا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز سے وابستہ ماہر اسد اللہ خان کہتے ہیں کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کیں، اُن کے بارے میں یہ دنیا کو بتانے کا وقت ہے۔ لیکن ملک کے وزیرِ داخلہ پر حملہ پاکستان کے متعلقہ اداروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

"ہمارے انسدادِ دہشت گردی کے قومی لائحۂ عمل میں یہ شامل ہے کہ ہم نے مذہبی منافرت کو ختم کرنا ہے۔ لیکن مجھے یہ بات بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہی ہے کہ ہماری جو سب سے بڑی کمزوری رہی ہے وہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک اپنے معاشرے سے فرقہ واریت کو اکھاڑ پھینک نہیں سکے ہیں۔"

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شفاف انتخابات کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تمام جماعتیں بغیر کسی خوف کے بھرپور مہم چلا سکیں۔

مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت رواں ماہ اپنی مدت مکمل کر رہی ہے اور انتخابات کے بعد حکومت کی منتقلی کا عمل مکمل ہو گا۔

واضح رہے کہ 2013ء کے عام انتخابات کے وقت بھی ملک میں دہشت گردی کا زور تھا اور کئی جماعتیں سکیورٹی خدشات کے سبب کھل کر انتخابی مہم نہیں چلا سکی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG