رسائی کے لنکس

logo-print

جیو کا متنازع پروگرام، ایمنسٹی کی عدالتی سزاؤں کی مذمت


ایمنسٹی انٹرنیشنل کے معاون سربراہ کے بقول،'تنظیم کو مقدمے کی سماعت میں جانبداری سے متعلق سنگین خدشات ہیں۔۔۔۔ اس سزا کا پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی پر منفی اثر پڑے گا‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم، ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے پاکستان کی ایک عدالت کی طرف سے ’گستاخانہ پروگرام نشر کرنے پر‘، نجی ٹی وی چینل کے مالک سمیت دیگر تین افراد کو طویل سزائیں دینے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنشنل کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ، انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کی طرف سے برگزیدہ ہستیوں سے متعلق مبینہ توہین آمیز کلمات پیش کرنے پر، جیو ٹی وی اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن، مارننگ شو کی میزبان شائستہ لودھی اور اسٹار اداکارہ وینا ملک سمیت ان کے خاوند اسد خٹک کو دی جانے والی سزاؤں کا پاکستانی میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی پر منفی اثر پڑے گا۔

ادارے کے ایشیا پیسیفک کے معاون ڈائریکٹر، ڈیوڈ گریفتھس کے بقول،'تنظیم کو مقدمے کی سماعت میں جانبداری سے متعلق سنگین خدشات ہیں۔'

ڈیوڈ گریفتھس کے مطابق، 'اس سزا کا پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی پر منفی اثر پڑے گا‘۔

بقول اُن کے، ’ایک ٹی وی پروگرام پیش کرنے پر کسی کو عشروں کے لیے قید کی سزا سنانے کا فیصلہ اچھا نہیں۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مخدوش قوانین کو ظاہر کرتا ہے، جو خاموش میڈیا کے لیے ایک آلہ کار بنتا جا رہا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ، ’مدعا علیہان کی غیرحاضری میں اس مقدمے کی سماعت کے بارے میں سنگین خدشات پائے جاتے ہیں۔ اس مقدمے میں انھیں کبھی عدالت میں جا کر الزامات کا جواب دینے کا موقع نہیں ملا تھا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ، ’دوسری طرف، توہین رسالت کے قوانین پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف غیر متناسب طور پر استعمال ہو رہے ہیں؛ اور اس فیصلہ سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی شخص اس قانون کا نشانہ بن سکتا ہے‘۔

گذشتہ روز گلگت بلتستان کی ایک عدالت نے توہین آمیز پروگرام نشر کرنے کے الزام پر چھ ماہ سے زیر سماعت مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جیو ٹی وی کے مالک میر شکیل الرحمٰن، شاستہ لودھی، وینا ملک اور اسد خٹک کو 26 ,26 سال جیل اور 13,13 لاکھ جرمانے کی سزا سنای تھی؛ اور مجرموں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کے تھے۔ اس فیصلے میں میر شکیل الرحمٰن کی جائیداد اور پاسپورٹ ضبط کیے جانے کا حکم بھی سنایا گیا تھا۔

خصوصی عدالت کے جج راجہ شہباز خان کے مطابق، مجرموں کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 کے تحت سزا سنای گئی ہے۔ تاہم، عدالت کے فیصلے کے خلاف چاروں مجرم گلگت بلتستان کی چیف کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔

وینا ملک نے تنظیم کو بتایا کہ پروگرام نشر ہونے کے بعد، انھیں جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں ملنے پر فوراً ملک چھوڑنا پڑا اور انھیں خوف ہے کہ پاکستان آنے کی صورت میں ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنشنل نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ’توہین رسالت کے قانون میں فوری اصلاحات کی جائیں، تاکہ قانون کے غلط استعمال کو روکا جاسکے‘۔

یاد رہے کہ میر شکیل الرحمٰن پر14 مئی 2014 کے جیو کے ایک مارننگ شو 'اٹھو جاگو پاکستان' میں برگذیدہ ہستیوں کی شان میں گستاخانہ پروگرام نشر کرنے کا الزام تھا۔ اس پروگرام میں اداکارہ وینا ملک اور ان کے شوہر اسد خٹک کی ڈرامائی شادی کے دوران، ایک قوالی پیش کی گئی تھی، جس کی پیشکش کے انداز پر جیو ٹی وی کو علما اور مختلف طبقہٴفکر کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔

اس متنازع پروگرام کے نشر ہونے کے بعد جیو کے مالک کی جانب سے مارننگ شو کی میزبان کی نادانستہ غلظی کو تسلیم کرتے ہوئے معافی طلب کی گئی تھی، جبکہ میزبان شائستہ لودھی نے بھی فوری طور پر اپنے اس عمل پر عوام سے معافی مانگی تھی۔

XS
SM
MD
LG