رسائی کے لنکس

logo-print

یمن: خانہ جنگی میں 85 ہزار بچوں کی ہلاکت کا خدشہ


شدید غذائی قلت کا شکار ایک یمنی بچہ اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ (فائل فوٹو)

'سیو دی چلڈرن' کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد ان ہزاروں بچوں کے علاوہ ہے جو خانہ جنگی کے دوران ہونے والی جھڑپوں اور لڑائیوں میں مارے گئے۔

ایک بین الاقوامی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یمن میں 2015ء سے جاری خانہ جنگی کے دوران اب تک پانچ سال سے کم عمر کے 85 ہزار بچے بیماریوں اور بھوک کے باعث جان سے جا چکے ہیں۔

'سیو دی چلڈرن' کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد ان ہزاروں بچوں کے علاوہ ہے جو خانہ جنگی کے دوران ہونے والی جھڑپوں اور لڑائیوں میں مارے گئے۔

تنظیم کے ڈائریکٹر تیمر کیرولوس کے بقول یمن میں گولیوں اور بموں کا نشانہ بن کر جان سے جانے والے ہر ایک بچے کے مقابلے میں درجنوں بچے بھوک اور بیماری کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں جن کی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔

'سیو دی چلڈرن' کے مطابق بھوک اور بیماری کا شکار ہونے والے بچوں کو موت سے قبل شدید تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے۔

مارچ 2015ء میں یمن کے وسیع رقبے پر قابض حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے عرب ملکوں کے اتحاد نے فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا جو تاحال جاری ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد کی یمن میں بمباری اور میزائل حملوں میں اب تک بچوں اور خواتین سمیت سیکڑوں عام شہری مارے جا چکے ہیں جب کہ چار سال سے جاری خانہ جنگی میں مرنے والے یمنی شہریوں کی کل تعداد 10 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق یمن میں جاری خانہ جنگی سے ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور یمن میں شدید انسانی بحران جنم لے چکا ہے جہاں 80 لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک کا شکار ہیں۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ شدید بھوک اور غذائی قلت کا سامنا کرنے والے ان افراد میں 13 لاکھ بچے بھی شامل ہیں جن کی غذائی ضروریات پوری نہ ہونے کے باعث ان کی نشو و نما پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

عالمی برادری کی مسلسل کوششوں کے باوجود یمن کی خانہ جنگی کا جلد اختتام ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG