رسائی کے لنکس

logo-print

لاپتا طیارے کے مسافروں کی لاشیں سمندر سے برآمد


لاشوں کی برآمدگی کے مناظر ٹی وی پر دیکھ کر طیارے کے مسافروں کے غمزدہ لواحقین ایک دوسرے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر روکنے لگے۔

انڈونیشیا کے حکام کو سمندر کی سطح پر کچھ لاشیں نظر آئی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ لاپتا ہونے والے ایئرایشیا کے طیارے کے مسافروں کی ہو سکتی ہیں۔

تلاش اور امداد کی کارروائیوں میں مصروف کارکنوں نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کم ازکم 40 لاشوں کو پانی سے نکالا ہے۔

منگل کو مقامی ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مناظر میں، بحیرہ جاوا جہاں لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے سرگرمیاں جاری تھیں، سطح آب پر لاشیں تیرتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔

ان لاشوں کی نشاہدہی سے کچھ دیگر قبل حکام کو سمندر میں کچھ ملبہ بھی دکھائی دیا تھا جس کے بارے میں باور کیا جارہا تھا کہ یہ لاپتا طیارے کا ہو سکتا ہے۔

نجی فضائی کمپنی ایئرایشیا کا مسافر طیارہ اتوار کی صبح انڈونیشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے لاپتا ہو گیا تھا۔ اس پر عملے سمیت 162 افراد سوار تھے۔

لاشوں کی برآمدگی کے مناظر ٹی وی پر دیکھ کر طیارے کے مسافروں کے غمزدہ لواحقین ایک دوسرے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر روکنے لگے۔

ایئر ایشیا کے بانی سربراہ ٹونی فرنیڈس نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا کہ مجھے کتنا افسوس ہے۔"

منگل کو عہدیداروں نے ایئرایشیا کے مسافر طیارے کی تلاش کے دائرے اور سرگرمیوں کو بڑھا دیا۔ کم ازکم 30 کشتیاں، 15 طیارے اور سات ہیلی کاپٹر بحیرہ جاوا، بورنیو اور سماٹرا کے جزائر کے درمیان کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تلاش کا کام اب پانی کے علاوہ خشکی پر جھوٹے جزیروں تک بڑھا دیا گیا۔

قبل ازیں انڈونیشیا کی تلاش اور امداد کی ایجنسی کے سربراہ بامبانگ سولیسٹیو کے مطابق ایک لاکھ 56 ہزار مربع کلومیٹر علاقے میں جہاز کی تلاش کی جا چکی ہے۔

"اس کا جائزہ لینے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب مزید 13 مختلف مقامات پر تلاش شروع کی جائے گی۔"

تلاش کی کارروائیاں امریکی بحریہ کے جہاز کی اس میں شمولیت سے مزید بہتر ہو گئیں ہیں۔ یو ایس ایس سمپسن جو کہ پہلے ہی اس علاقے میں تعینات تھا، وہ ان سرگرمیوں میں حصہ لے رہا ہے۔ اس جہاز پر سونار نامی آلات نصب ہیں جو کہ تہہ آب چیزوں کی اسکیننگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

جہاز پر انڈونیشیا کے 149، جنوبی کوریا کے تین جب کہ برطانیہ، ملائیشیا اور سنگاپور کا ایک، ایک شہری سوار تھا۔ مسافروں میں بچے بھی شامل تھے۔ عملے کے ساتھ ارکان میں سے چھ کا تعلق انڈونیشیا جب کہ معاون پائلٹ کا تعلق فرانس سے بتایا جاتا ہے۔

ایئرایشیا ملائیشیا کی نجی فضائی کمپنی ہے اور لاپتا ہونے والے طیارے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ صرف چھ سال پرانا تھا اور تکنیکی اعتبار سے بالکل ٹھیک تھا۔

حکام کے مطابق طیارے کے پائلٹ نے دوران پرواز طوفان سے بچنے کے لیے مقررہ روٹ سے بائیں مڑنے کی اجازت مانگی تھی جو دے دی گئی لیکن اس کے بعد پائلٹ طیارے کو 1800 میٹر بلند لے جانا چاہتا تھا جس کی یہ کہہ کر اجازت نہیں دی گئی کہ اس وقت ایک اور طیارہ بھی یہاں محو پرواز تھا۔

اس سال مارچ میں ملائیشیا کا ایک مسافر طیارہ کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتا ہو گیا تھا جس کا آج تک سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ اس پرواز پر 239 افراد سوار تھے۔

XS
SM
MD
LG