رسائی کے لنکس

logo-print

پکتیکا: فضائی کارروائی، تحریک طالبان پاکستان کا چوٹی کا کمانڈر ہلاک


امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ 24 اور 25 ستمبر کو ضلع برمل میں دو فضائی کاروائیاں کی گئیں؛ ''جن میں سے ایک کارروائی انسداد دہشت گردی کے حکام کی نگرانی میں، جب کہ دوسرا فضائی حملہ دوستانہ افواج کے دفاع میں کیا گیا''

جنوب مشرقی افغانستان میں ہونے والی مشتبہ امریکی فضائی کارروائی کے دوران، خیال کیا جاتا ہے کہ انتہا پسند پاکستان طالبان کا ایک چوٹی کا کمانڈر اور اُن کے متعدد ساتھی ہلاک کیے گئے۔

یہ حملہ رات گئے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں کیا گیا، جو پاکستانی سرحد سے ملحقہ علاقہ ہے۔

شدت پسندوں کے ذرائع کے مطابق، رئیس خان، جنھیں اعظم طارق کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، جن کا تعلق خودساختہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا، اور اُن کا بیٹا ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

امریکی فوج نے اتوار کے روز 'وائس آف امریکہ' سے اِس بات کی تصدیق کی، جس نے بتایا ہے کہ اِس علاقے میں دو فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ تاہم، ''سکیورٹی وجوہ کی بنا پر'' اُن پر گفتگو سے گزیر کیا۔

فوج نے بتایا کہ ''ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکی فوج نے 24 اور 25 ستمبر کو ضلع برمل میں دو فضائی کاروائیاں کیں۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ایک کارروائی انسداد دہشت گردی کے حکام کی نگرانی میں کی گئی جب کہ دوسرا فضائی حملہ دوستانہ افواج کے دفاع میں کیا گیا''۔

افغان وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ قومی افواج نے ہفتے کی رات گئے برمل میں کارروائیاں کیں، جس دوران نو شدت پسند ہلاک ہوئے۔ اُس نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں القاعدہ کے دو کمانڈر شامل ہیں، اور بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ہتھیار، خودکش جیکٹ اور خبر رسانی کے آلات بھی پکڑے ہیں۔ 'ٹی ٹی پی' ایک دہائی سے پاکستان کے خلاف مہلک بغاوت میں ملوث رہی ہے۔ اس کے زیادہ تر رہنما اور لڑاکوں کی ایک بڑی تعداد دو برس قبل افغانستان بھاگ نکلی تھی، جب پاکستانی فوج نے سرحدی علاقوں میں زوردار بَری اور فضائی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی اِس کارروائی کا دھیان زیادہ تر شمالی وزیرستان پر مرکوز ہے، جو کسی زمانے میں بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز ہوا کرتا تھا۔

پاکستانی حکام الزام لگاتے ہیں کہ 'ٹی ٹی پی' کے شدت پسند ہمسایہ ملک کے جاسوسی کے ادارے کی مدد سے سرحد پار شہری آبادی کے ساتھ ساتھ سلامتی افواج کے خلاف خونریز حملوں کی منصوبہ سازی اور اُن پر عمل درآمد کرتے ہیں۔

افغانستان طویل عرصے سے افغان طالبان کی پوشیدہ طور پر مدد کا الزام پاکستان پر دیتا ہے، جب کہ پاکستان اِن الزامات کی تردید کرتا ہے۔

گذشتہ ایک عشرے کے دوران ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ہزاروں پاکستانی افراد کی ہلاکت کا الزام پاکستانی طالبان پر دیا جاتا ہے۔

تاہم، فوج کا کہنا ہے کہ افغان سرحدی علاقوں کے قریب کی جانے والی کارروائی میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں اور 3500 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں، جس کے باعث تشدد کی کارروائیوں میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG