رسائی کے لنکس

افغانستان کے ایک ضلع پر طالبان کا قبضہ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے افغانستان میں تعینات امریکہ فوج نے صوبہ ہلمند میں حال ہی میں 100 امریکی فوجی تعینات کیے تھے۔

افغان حکام کے مطابق طالبان نے پاکستانی سرحد کے قریب صوبہ پکتیکا کے ایک ضلع جانی خیل پر قبضہ کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق اس ضلع پر قبضے سے قبل طالبان اور افغان فورسز کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس ’اے پی‘ کے مطابق صوبہ پکتیکا کے گورنر کے ترجمان نقیب احمد اٹل نے کہا کہ عام شہریوں کے جانی نقصان سے بچنے کے لیے افغان فورسز جانی خیل ضلع سے باہر نکل گئیں۔

نقیب اٹل نے کہا کہ لڑائی میں کم از کم پانچ افغان پولیس افسر ہلاک جب کہ پانچ زخمی ہو گئے۔

طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ طالبان نے ضلع پر قبضہ کر لیا ہے اور دعویٰ کیا کہ جنگجوؤں نے اسلحہ و گولہ باردو کے علاوہ فوجی گاڑیاں بھی اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔

واضح ہے کہ طالبان کی طرف سے افغانستان میں کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی افغانستان صوبہ قندوز کے ایک اہم شمالی ضلع پر طالبان نے قبضہ کر لیا تھا لیکن طالبان کے قبضے کے کچھ ہی گھنٹوں پر افغان فورسز نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے اس علاقے پر سرکاری کنٹرول بحال کر دیا۔

افغانستان سے 2014ء کے اواخر میں بڑی تعداد میں غیر ملکی فوجیوں کی اںخلا کے بعد طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے افغانستان میں تعینات امریکی فوج نے صوبہ ہلمند میں حال ہی میں 100 امریکی فوجی تعینات کیے تھے۔

صوبہ ہلمند افغان طالبان کا روایتی طور پر مضبوط گڑھ رہا ہے اور حالیہ ہفتوں میں یہاں لڑائی میں بھی شدت آئی ہے۔

ملک کے اس صوبے میں طالبان نے گزشتہ ایک سال کے دوران کئی علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے۔

اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد افغان فورسز کی تربیت اور اُنھیں عسکری مشاورت کی فراہمی شامل ہے تاکہ وہ نا صرف بہتر طور پر علاقے کا دفاع کر سکیں بلکہ وہ علاقے جو طالبان کے زیر قبضہ ہیں اُنھیں واپس بھی لے سکیں۔

XS
SM
MD
LG