رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور روس کی طرف سے شام میں ایک جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی باغیوں کے زیر تسلط ادلیب اور حلب کے علاقوں میں ہفتہ کو ہونے والے فضائی حملوں میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

پہلا حملہ ادلب صوبے کے ایک پرہجوم بازار میں ہوا جس سے کم از کم 36 افراد ہلاک ہو گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ بازار میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد عیدالاضحیٰ کی تیاریوں کے سلسلے میں خریداری میں مصروف تھی۔

شہری دفاع اور آگ بجھانے والے عملے کے کارکنان فضائی حملے سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکال نکال کر اسپتال منتقل کرتے رہے۔

ایک دوسرے فضائی حملے میں حلب شہر اور اس کے مضافات میں بمباری کی گئی جس سے کم از کم 46 افراد مارے گئے جب کہ باغیوں کی طرف سے حکومتی زیر کنٹرول علاقے صلاح الدین میں گولہ باری سے دس افراد مارے گئے۔

باغیوں کے ایک اور مضبوط گڑھ دوما میں فضائی حملہ پانچ افراد کی ہلاکت کا باعث بنا۔

امریکی وزیر خارجہ جان جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاووروف نے جمعہ کو دیر گئے جنیوا میں جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پیر سے نافذ العمل ہوگی۔

شامی باغیوں نے محتاط انداز میں اس کا خیر مقدم کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG