رسائی کے لنکس

logo-print

کوبانی کے قریب شدت پسندوں پر فضائی کارروائیوں میں اضافہ


شدت پسندوں نے کوبانی پر اپنی گولہ باری میں بھی اضافہ کیا اور ان میں سے بعض گولے سرحد پار ترکی کے علاقے میں بھی گرے۔

امریکہ کی زیر قیادت اتحادی لڑاکا طیاروں نے شام میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے جو اہم سرحدی علاقے کوبانی پر قبضے کے لیے پیش قدمی کرتے چلے آرہے ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ جمعے سے فضائی کارروائیوں میں ڈرامائی انداز میں تیزی لائی گئی۔ کوبانی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کو بتایا کہ اتحادیوں کی فضائی کارروائیوں سے شدت پسندوں کی پیش قدمی کو سست کیا ہے لیکن فضائی طاقت ابھی ناکافی ہے۔

ان کے بقول دولت اسلامیہ سے برسرپیکار کرد جنگجووں کو مزید اسلحہ اور گولہ بارود درکار ہے۔

اتحادی فورسز نے عراق میں دولت اسلامیہ کے پانچ سے زائد اہداف کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا۔ ان ہی علاقوں میں گزشتہ بدھ اور جمعرات کو اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

شدت پسندوں نے کوبانی پر اپنی گولہ باری میں بھی اضافہ کیا اور ان میں سے بعض گولے سرحد پار ترکی کے علاقے میں بھی گرے۔

گزشتہ ہفتے ترکی اور امریکہ کے حکام نے کہا تھا کہ دولت اسلامیہ کوبانی پر قبضہ کر سکتی ہے۔

چار ہفتوں سے جاری اس لڑائی کو امریکی صدر براک اوباما کی فضائی کارروائی کی حکمت عملی کا امتحان تصور کیا جارہا ہے اور کرد رہنماوں کا کہنا ہے کہ دفاع کرنے والوں تک اسلحہ اور بارود کی فراہمی تک اس علاقے کو نہیں بچایا جاسکتا۔ ترکی نے ابھی تک یہاں اسلحے کی فراہمی کی اجازت نہیں دی۔

دولت اسلامیہ عراق اور شام کے مختلف حصوں پر قبضہ کرنے کے بعد اس شہر کا کنٹرول بھی سنبھالنے کے لیے کوشاں ہے۔

کوبانی میں دولت اسلامیہ کی شکست شدت پسندوں کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہوگی اور اس سے امریکہ کے زیرقیادت اتحاد کی کوششوں کو تقویت بھی ملے۔

XS
SM
MD
LG