رسائی کے لنکس

logo-print

حق مانگ رہے ہیں، بھیک نہیں: اختر مینگل


سردار اختر مینگل نے کہا عمران خان اگر ہمیں ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو جلد از جلد معاہدے پر عمل درآمد کریں (فائل فوٹو)

بلوچستان نیشنل پارٹی ’مینگل‘ (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت نے ان کے ساتھ کیے گئے تحریری معاہدے پر مکمل عمل در آمد نہیں کیا۔

بی این پی مینگل کے مرکزی رہنما نواب امان اللہ زہری کے قتل کے خلاف اتوار کو کوئٹہ میں ایک احتجاجی جلسے کا اہتمام کیا گیا۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان اب خود وضاحت کریں کہ وہ ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ تاکہ بی این پی، حکومت سے اپنی راہیں الگ کرنے کا فیصلہ کرے۔

اختر مینگل نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت کو آج کے جلسے کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر آپ معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر سکتے تو دیر نہ کریں اور ہمیں جواب دے دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں، حق کے لیے بھیک نہیں مانگ رہے۔

دوران تقریر اختر مینگل نے پنجابی زبان کا مشہور نعرہ دُہراتے ہوئے کہا کہ 'ساڈا حق, ایتھے رکھ‘، جس پر جلسے میں موجود اُن کی پارٹی کے کارکنوں نے تالیاں بجا کر داد دی۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے ساتھ ماضی میں کیے جانے والے اتحاد کو چھوڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ جب ہمیں اندازہ ہوا کہ وہ ہمارے معاہدے پر پورا نہیں اتریں گے تو ہم نے اچھے اچھے لیڈروں کا ساتھ چھوڑ دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان اگر ہمیں ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو جلد از جلد معاہدے پر عمل درآمد کریں۔ ورنہ ہم گھسیٹنے والوں میں سے نہیں ہیں کہ وزیرِ اعظم ہمیں کان سے پکڑ کر گھسیٹ لیں گے۔

بی این پی مینگل کے سربراہ نے واضح کیا کہ وہ حکومتی اتحاد میں اسی صورت میں رہیں گے جب بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو وفاقی حکومت کے محکموں میں روزگار فراہم کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اختر مینگل کے وفاقی حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں لاپتا افراد کی بازیابی، افغان پناہ گزینوں کی واپسی، بلوچستان کے قدرتی وسائل اور ساحلِ سمندر پر دسترس، وفاقی اداروں میں بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا اور بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے سلسلے کو تیز کرنے کے نکات شامل ہیں۔

بی این پی مینگل کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ وہ اگر ان نکات پر سودے بازی کرتے تو انہیں بلوچستان میں وزارتِ اعلیٰ کا عہدہ مل سکتا تھا یا پھر ہمارے کم از کم 10 اراکینِ اسمبلی کو وزیر بنا دیا جاتا۔

اختر مینگل نے کہا کہ حکمرانوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ انہوں نے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے علاقائی جنگیں کرائیں اور ہمیں فرقوں میں تقسیم کر کے بلوچوں کو آپس میں لڑوایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا مقصد یہی رہا ہے کہ ہم جھگڑوں میں الجھے رہیں اور وہ ہماری زمینیں لوٹ کر انہیں نیلام کر کے عیش کی زندگی گزاریں۔

سردار اختر مینگل نے مزید کہا کہ وہ سیاسی جماعتیں اور رہنما جنہوں نے صوبے کے حقوق کے لیے جدوجہد کا راستہ اپنایا، انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے قبائلی تنازعات کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ گولیاں کہاں بنتی رہی ہیں جن کا نشانہ ہماری جماعت کے رہنما بنے ہیں۔

سردار اختر مینگل نے بلوچستان کی موجودہ صوبائی حکومت اور اس کے وزراء پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بعض وزراء تو اُردو بھی صحیح طریقے سے نہیں بول سکتے۔

انہوں نے صوبائی وزراء پر ملازمتیں فروخت کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت میں ہونے والے اس جلسے کے بارے میں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہت عرصے کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس جلسے کا مقصد وفاقی حکومت اور صوبے میں سرگرم نیم فوجی قوت کو پیغام دینا تھا۔ جس میں سردار مینگل اور اُن کے ساتھی کامیاب رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG