رسائی کے لنکس

logo-print

پیرس: ڈرون کی پراسرار پروازیں، الجزیرہ کے تین صحافی زیر حراست


فرانس میں بغیر لائسنس کے ڈرون اڑانا غیر قانونی ہے اور اس پر زیادہ سے زیادہ ایک سال قید اور 75 ہزار یورو (85 ہزار ڈالرز) جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

پیرس میں اہم عمارتوں پر غیر قانونی طور پر ڈرون اڑانے کے الزام میں پولیس نے الجزیرہ کے تین صحافیوں کو حراست میں لیا ہے۔

یہ حراستیں منگل اور بدھ کو ایفل ٹاور اور دیگر حساس عمارتوں پر ڈرون کی پروازیں دیکھے جانے کے بعد عمل میں آئی ہیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ تحویل میں لیے گئے صحافیوں کو اس معاملے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

پیرس میں حکام نے بتایا کہ الجزیرہ نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے تین غیر ملکیوں جن کی عمریں 70، 54 اور 36 برس ہیں، کو پولیس نے اس وقت تحویل میں لیا جب انھوں نے مغربی پیرس میں ڈرون کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا۔ حکام کے بقول یہ واضح نہیں کہ یہ تینوں کیا کام انجام دینا چاہ رہے تھے۔

قطر میں قائم الجزیرہ نے ایک بیان میں کہا کہ پولیس نے اس کی انگلش سروس کے ان تین صحافیوں کو حراست میں لیا ہے جو شہر میں ہونے والی پراسرار ڈرون پروازوں پر ایک رپورٹ تیار کر رہے تھے۔

فرانسیسی قوانین کے تحت ان صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹوں تک تحویل میں رکھا جا سکتا ہے۔

فرانس میں بغیر لائسنس کے ڈرون اڑانا غیر قانونی ہے اور اس پر زیادہ سے زیادہ ایک سال قید اور 75 ہزار یورو (85 ہزار ڈالرز) جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

پولیس پہلے ہی پیرس کے مختلف علاقوں پر پرواز کرنے والے ڈرونز کی تحقیقات کر رہی ہے جن کے بارے میں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کہاں سے اور کون اڑا رہا ہے۔

گزشتہ ماہ بھی ڈرونز کو صدارتی محل، جوہری پلانٹس اور عسکری تنصیبات پر پرواز کرتے دیکھا گیا تھا جس سے حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

فرانس میں گزشتہ ماہ ہونے والے ہلاکت خیز حملوں کے بعد سے سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔

XS
SM
MD
LG