رسائی کے لنکس

حلب سے شہریوں کا انخلا جاری


موصل سے نکلنے والے شامی باشندے صوبہ ادلب کے ایک پناہ گزین کیمپ میں۔ 22 دسمبر 2016
موصل سے نکلنے والے شامی باشندے صوبہ ادلب کے ایک پناہ گزین کیمپ میں۔ 22 دسمبر 2016

حلب سے 37 ہزار لوگوں کو نکالا جا چکا ہے اور بدھ کے روز تک باقی رہ جانے والے تمام لوگوں کو شہر سے نکالنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔

ہِلال احمر کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہاہے کہ اُسے حلب میں پھنسے ہزاروں شہریوں اور صوبہ ادلیب میں باغیوں کے زیر قبضہ دو دیہاتوں سے لوگوں کو نکالنے کا کام جمعرات کو شب روز جاری رہنے کی توقع ہے۔ تاہم کمیٹی نے خبردار کیا کہ خراب موسم کی وجہ سے انخلا میں سست روی پیدا ہو سکتی ہے۔

ہِلال احمر، اس انخلا میں مدد کر رہی ہے، اور جمعرات کے روز اس کا کہنا تھا کہ مشرقی حلب سے 34 ہزار افراد کو نکالا جا چکا ہے۔ اِن اعداد میں گزشتہ رات چار ہزار باغیوں کا انخلا بھی شامل ہے، جنہوں نے صدر بشار ال اسد کو برطرف کرنے کیلئے، چار سال پہلے اس شہر پر قبضہ کیا تھا ۔

یہ انخلا مکمل ہوجانے کے بعد پورے شہر پر صدر بشار الاسد کی حکومت کا قبضہ ہو گا۔ خانہ جنگی سے پہلے، حلب، ، شام کا سب سے بڑی آبادی والا شہر تھا۔

اسی دوران، بدھ کے روز، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک آزاد و خود مختار پینل تشکیل دینے کے لئے، ایک قرار داد منظور کی ، جو شام میں چھ سال سے جاری خانہ جنگی میں ممکنہ جنگی جرائم کی تفتیش کرے گا۔

اقوام متحدہ کے لئے، شام کے سفیر بشار جعفری نے اس قرار داد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا نتیجہ تو وہ پہلے سے اخذکر چکے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس مشینری کیلئے رقم فراہم کرنے والے ہی دهشت گردی کے شریک معاون ہیں، خصوصی طور پر قطر اور سعودی عرب اور چند یورپی ممالک، جو یورپی دهشت گردی کو ہمارے ملک اور عراق میں درآمد کرتے ہیں۔

قرار داد میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون اور انسانی حقوق کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دفتر کی جانب سے بار بار کئےگئے اُس مطالبے کا تذکرہ بھی شامل ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ شام کی صورتحال کو جرائم کی بین الاقوامی عدالت کےسپرد کیا جائے۔ تاہم، روس اور چین نے ویٹو کا اختیار استعمال کرتے ہوئے، ایسی قرار دادوں کو مسترد کر دیا تھا۔

اس سے قبل خبروں میں بتایا گیا تھا کہ شام میں اقوام متحدہ کے ایک عہدے دار نے خبر رساں ایجنسی روئیٹرز کو بتایا ہے کہ شمالی شہر حلب سے لوگوں کے انخلاء کا آخری مرحلہ ایک دن کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہو گیا ہے اور بسیں لوگوں کو لے کر مشرقی حلب سے باہر نکلنا شروع ہو گئی ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی برطانیہ میں قائم ایک تنظیم سیرین اوبزرویٹری فار ہیومین رائٹس نے کہا ہے کہ مشرقی حلب میں سے تقریباً 3000 ہزار افراد کو نکالنے لیے 60 بسیں تیار کھڑی ہیں جہاں اس وقت موسم بہت ٹھنڈا ہے اور درجہ حرارت صفر کے قریب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ محاصرے کے اس شہر سے لوگوں کے انخلاء کا آخری مرحلہ ہے۔

باغیوں کے کنڑول کے شہر حلب سے مکمل انخلاء کے بعد شام کے صدر بشار الأسد کو اس اہم شہر پر کلی کنٹرول حاصل ہوجائے گا جو چھ سالہ خانہ جنگی میں ان کے لیے ایک اہم ترین کامیابی ہے۔

اس سے پہلے شام کے سرگرم کارکنوں نے کہا تھا کہ شمالی شہر حلب سے باغیوں اور عام شہریوں کو نکالنے کا کام رک گیا ہے ، جب کہ حکومت اور حزب اختلاف اس تاخیر کا الزام ایک دوسرے پر لگایا۔

برطانیہ میں قائم شام کی انسانی حقوق کی تنظیم ’ سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس ‘نے کہا تھا کہ مشرقی حلب سے لوگوں کو نکالنے کے لیے بسیں تیار کھڑی تھیں جو چار سال پہلے محاصرے میں لیے جانے والے حلب کے اس حصے سے باغیوں کے انخلاء کا آخری مرحلہ ثابت ہو سکتا تھا۔

لوگوں کو شہر سے نکالنے کا کام روس اور ترکی کی ثالثی میں طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت کیا جا رہا ہے، جنہوں نے لوگوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صوبے ادلیب کے دو قصبوں سے چلے جائیں جو باغیوں کے محاصرے میں ہیں۔

ترک وزیر خارجہ نے منگل کے روز کہا تھا کہ حلب سے 37 ہزار لوگوں کو نکالا جا چکا ہے اور بدھ کے روز تک باقی رہ جانے والے تمام لوگوں کو شہر سے نکالنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔

ماسکو میں وزرائے خارجہ ایک اجلاس میں ترکی، ایران اور روس کے روس کے خارجہ أمور کے وزراء شریک ہوئے اور انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ تینوں ملکوں نے حلب میں پھنسے ہوئے لوگوں کے انخلاء پر زور دینے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شام کے تقریباً چھ سال پرانے اس تنازع میں بااثر کرداروں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

حزب اختلاف کے راہنماؤں اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ حلب کے مغرب میں واقع مضافاتی آبادیوں کی 70 فی صد سے زیادہ عمارت تباہ ہو چکی ہیں اور ان علاقوں میں کھانے پینے کی چیزوں اور ادویات کی شديد کمی ہے۔

XS
SM
MD
LG