رسائی کے لنکس

logo-print

’تائیوان کے لیے امریکی حمایت لازوال ہے‘


چین کا بحری بیڑہ لیاؤننگ۔ فائل فوٹو

ایلکس وانگ نے تائیوان کے صدر تائی اِنگ وین کے ہمراہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان کو غیر منصفانہ طور پر باقی دنیا سے الگ تھلگ نہیں رکھا جا سکتا۔

امریکہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکٹری آف اسٹیٹ ایلکس وانگ نے کہا ہے کہ تائیوان کے لئے امریکی حمایت انتہائی مضبوط ہے اور یہ ملک انڈو۔ پسیفک خطے کے لئے انتہائی اہم ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اُن کے اس بیان پر چین کی طرف سے شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا جائے گا۔

ایلکس وانگ ان دنوں تائیوان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اُن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خود مختار ملک تائیوان اور چین کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔ چین کے صدر شی جنپنگ نے منگل کے روز تائیوان کے علیحدگی پسندوں کو سخت واننگ جاری کی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر تائیوان نے چین سے الگ ہونے کی کوشش کی تو اسے تاریخ کی ’سخت ترین سزا ‘ کا سامنا ہو گا۔

کشیدگی کے باعث بعض حلقے اس علاقے میں جنگ کا خدشہ بھی محسوس کرتے ہیں۔ تائیوان کی وزارت دفاع نے آج بدھ کے روز بتایا ہے کہ اس خطرے کے پیش نظر تائیوان نے آبنائے تائیوان میں چین کے طیارہ بردار جہاز کی نگرانی کے لئے جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے روانہ کئے۔

ایلکس وانگ نے تائیوان کے صدر تائی اِنگ وین کے ہمراہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان کو غیر منصفانہ طور پر باقی دنیا سے الگ تھلگ نہیں رکھا جا سکتا۔ اُنہوں نے تائیوان کی حکومت کو یقین دلایا کہ امریکی حکومت اور نجی کاروباری شعبہ تائیوان کے بین الاقوامی کردار کو روشن بنانے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

چین پہلے ہی صدر ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ ہفتے ایک قانون پاس کرنے پر برہمی کا اظہار کر چکا ہے جس کے تحت امریکی عہداروں کو تائیوان کا دورہ کرنے اور وہاں اپنے ہم منصب عہدیداروں سے ملاقاتیں کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ تائیوان کے صدر تائی اِنگ وین نے اس امریکی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا۔

’’ہمیں خوشی ہے کہ صدر ٹرمپ نے تائیوان کا سفر کرنے کے مسودے پر دستخط کر کے اسے قانونی شکل دے دی ہے۔ ہم ٹرمپ انتظامیہ اور اس قانون کی حمایت کرنے والے امریکی کانگریس کے ارکان کے شکرگزار ہیں۔‘‘

تائیوان کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ چین کا بحری بیڑہ لیاؤننگ منگل کے روز آبنائے تائیوان میں داخل ہو گیا تھا۔ تاہم وہ آج بدھ کی دوپہر اس علاقے سے جنوب مغرب کی جانب روانہ ہو گیا۔ تائیوان کی وزارت دفاع نے خیال ظاہر کیا ہے کہ چین کا یہ بحری بیڑہ جنگی مشقوں کیلئے اس علاقے میں آیا تھا۔

چین کی وزارت دفاع نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG