رسائی کے لنکس

logo-print

الجزائر: 100 سے زائد غیر ملکی مغویوں کی رہائی


جمعرات کو الجزائر کی سیکیورٹی فورسز نے کاروائی میں مدد دینے کی غیر ملکی پیش کشوں کو رد کردیا تھا۔

الجزائر کی ایک دور دراز گیس فیلڈ میں پھنسے ہوئے ان درجنوں ملکی و غیر ملکی کارکنوں کی رہائی کے لیے آپریشن جاری ہے جنہیں دو روز قبل مسلمان جنگجووں نے یرغمال بنا لیا تھا۔

الجزائر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے لگ بھگ 100 غیر ملکی کارکنوں کو جنگجووں کے قبضے سے چھڑا لیا ہے جب کہ اب بھی 30 سے زائد غیر ملکی کارکن اغوا کاروں کے قبضے میں ہیں۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے مطابق الجزائر کی سیکیورٹی فورسز صحرائے صحارا میں قائم وسیع و عریض گیس فیلڈ میں موجود جنگجووں اور یرغمالیوں کی تلاش کے لیے آپریشن میں مصروف ہیں۔

جمعے کو لندن میں برطانوی پارلیمان کے ارکان کو صورتِ حال پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِاعظم کیمرون کا کہنا تھا کہ انہوں نے الجزائر کے وزیرِاعظم سے گفتگو کی ہے جنہوں نے واقعے میں 'القاعدہ' سے منسلک جنگجووں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایاہے کہ ان کے خلاف کاروائی تاحال جاری ہے۔

کیمرون کا کہنا تھا کہ الجزائری وزیرِاعظم نے انہیں بتایا کہ جنگجو گیس فیلڈ سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے جس کے پیشِ نظر حکام کو اندیشہ ہوا کہ وہاں موجود یرغمالیوں کی زندگیاں خطرے میں ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم نے بتایا کہ صورتِ حال کے پیشِ نظر مقامی سیکیورٹی فورسز نے کاروائی کا آغاز کیا اور الجزائر کے وزیرِاعظم کے بقول کاروائی کا پہلا مرحلہ جمعرات کی رات مکمل کرلیا گیا ہے۔

ڈیوڈکیمرون کا کہنا تھا کہ مذکورہ گیس فیلڈ وسیع و عریض رقبے پر محیط اور کئی تنصیبات پر مشتمل ہے اور سیکیورٹی فورسز تاحال اس کے مختلف حصوں میں دہشت گردوں اور یرغمالیوں کو تلاش کر رہی ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو الجزائر کی سیکیورٹی فورسز نے کاروائی میں مدد دینے کی غیر ملکی پیش کشوں کو رد کردیا تھا۔

الجزائر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق گیس فیلڈ پر حملہ کرنے والے شدت پسند کئی گاڑیوں میں سوار اور بھاری اسلحے سے لیس تھےجنہوں نے الجزائر اور لیبیا کی سرحد سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر قائم 'سونا ٹریچ' نامی گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا۔

وزارت کے مطابق مذکورہ گیس فیلڈ بین الاقوامی آئل کمپنی 'بی پی'، ناروے کی آئل فرم 'اسٹیٹ آئل' اور الجزائر کی سرکاری کمپنی 'سوناٹریچ' کے مشترکہ انتظام میں ہے۔

الجزائر کی ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک کے جنوبی علاقے 'امیناس' میں قائم گیس فیلڈ پر بدھ کو علی الصباح کیے جانے والے حملے کی ذمہ داری 'القاعدہ' سے منسلک ایک مقامی شدت پسند تنظیم نے قبول کی ہے۔

'الجیرین پریس سروس' نے جمعے کو خبر دی ہے کہ گیس فیلڈ میں کی جانے والی کاروائی کے پہلے مرحلے میں یرغمال بنائے گئے 60 سے زائد غیر ملکیوں اور 570 سے زائد الجزائری کارکنوں کو رہا کرالیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ فورسز کی کاروائی میں کم از کم 30 مغوی بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ کاروائی میں کم از کم 18 اغواکار بھی مارے گئے ہیں۔

'الجیرین پریس سروس' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی حکام جنگجووں کے کے قبضے میں موجود باقی ماندہ مغویوں کو رہا کرانے کے لیے ان سے معاہدے کے کوشش کر رہے ہیں۔

اغوا ہونے والوں میں جاپانی، فرانسیسی، آئرش، نارویجن اور مبینہ طور پر امریکی بھی شامل ہیں۔ اتنے سارے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے اغوا کے باعث دنیا میں سفارتی بھونچال آیا ہوا ہے اور متاثرہ ممالک کے وزرائے خارجہ اور سربراہان تک باہمی رابطوں اور مغویوں کی رہائی کے لیے سرگرم ہیں۔

امریکہ نے بھی الجزائر میں پیش آنے والے واقعے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا برطانیہ کے دورے پر لندن پہنچے ہیں جہاں انہوں نے وزیرِاعظم کیمرون سے ملاقات کی ہے۔
XS
SM
MD
LG