رسائی کے لنکس

logo-print

اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، علی بابا کے حصص میں ریکارڈ اضافہ


ایک اندازے کے مطابق، علی بابا گروپ نے 16 ارب ڈالر کے ’آئی پی او‘ جاری کیے۔ علی بابا نے اپنے فی شیئر کی ابتدائی قمیت 68 ڈالر لگائی اور توقع کی جا رہی ہے کہ اُسے 21 ارب 80 کروڑ ڈالر حاصل ہو سکیں گے

اسکاٹ لینڈ میں حالیہ ریفرنڈم میں اکثریت کی طرف سے برطانیہ کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دینے کے بعد جمعہ کو امریکہ کی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی۔

اس کی ایک اہم بات چین کے ایک بڑے ’ای کامرس ادارے، علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ‘ کے شیئرز کی قیمت میں قوی اضافہ تھا۔

ایک اندازے کے مطابق، علی بابا گروپ نے 16 ارب ڈالر کے ’آئی پی او‘ جاری کیے۔

علی بابا نے اپنے فی شیئر کی ابتدائی قمیت 68 ڈالر لگائی اور توقع کی جا رہی ہے کہ اُسے 21 ارب 80 کروڑ ڈالر حاصل ہو سکیں گے۔

’علی بابا‘ ہینگ زو میں قائم اِی کامرس کا ایک سرکردہ عالمی ادارہ ہے اور انٹرنیٹ پر بین الاقوامی اور داخلی تجارت کے شعبوں کا ایک بہت بڑا نام ہے۔

ابتدائی رپورٹوں کے مطابق، حصص کی کھلے عام پیش کش کی مالیت 36 کروڑ اور 60 لاکھ ہے، جو ’بابا‘ کے علامتی ٹوکن تلے کاروبار کرتے ہیں۔


انٹرنیٹ کا امریکی ادارہ، ’یاہو‘ علی بابا میں تقریباً 24 فی صد حصص کا مالک ہے۔

وہ 14 کروڑ حصص کی فروخت کرتا ہے، جس سے یاہو کو تقریباً 10 ارب ڈالر کی کمائی ہوتی ہے، جس سے وہ تیکنالوجی کے نئے ادارے خریدتا ہے، جس سے اُس کے آمدن کو فروغ ملتا ہے۔

تاہم، مارکیٹ سے متعلق کچھ تجزیہ کار اِس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ علی بابا چین میں قائم ہے، جس کا بہت سارا کاروبار کمیونسٹ پارٹی نے سنبھالا ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG