رسائی کے لنکس

'ایلس ویلز کے دورۂ پاکستان سے ایک دوسرے کا نقطہ نظر سمجھنے میں مدد ملی'


امریکی نائب معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاء ایلس ویلز اور پاکستانی خارجہ سیکٹری تہمینہ جنجوعہ کی ملاقات۔ فائل فوٹو
امریکی نائب معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاء ایلس ویلز اور پاکستانی خارجہ سیکٹری تہمینہ جنجوعہ کی ملاقات۔ فائل فوٹو

تجزیہ کار معید یوسف نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں نے ’’تعاون کے حوالے سے جو بھی ’بنچ مارک‘ مقرر کر رکھے ہیں، ان ملاقاتوں میں اُن پر غور کیا گیا اور دیکھا گیا کہ کہاں کہاں دشواریاں پیش آ رہی ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے‘‘

امریکہ کی نائب معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا، ایلس ویلز کا 7 روزہ دورہٴ پاکستان منگل کے روز مکمل ہوگیا، جس کے بعد پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے ایک پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ ’’اُنہوں نے دورے کے دوران محسوس کیا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں پر امن حل کیلئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے‘‘۔

واشنگٹن میں قائم معروف تھنک ٹینک ’یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس‘ میں جنوبی ایشیا پروگرام کے شریک صدر ڈاکٹر معید یوسف نے ’وائس آف امریکہ‘ کی اُردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال کے آغاز پر امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کے بارے میں ’’سخت ٹویٹ‘‘ سامنے آنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری سطح پر بہت سے دورے ہو چکے ہیں۔

ایلس ویلز امریکہ کے محکمہ خارجہ میں جنوبی ایشیائی خطے کیلئے اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں۔ ’’اُن کے اس سات روزہ دورہٴ پاکستان میں اُن کی پاکستانی عہدیداروں سے جو ملاقاتیں ہوئی ہیں اُن میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پاکستان اور امریکہ نے دہشت گردی اور افغانستان کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ ملکر کیسے آگے بڑھنا ہے‘‘۔

معید یوسف نے کہا ہے کہ ’’دونوں ملکوں نے ان شعبوں میں تعاون کے حوالے سے جو بھی ’بنچ مارک‘ مقرر کر رکھے ہیں، ان ملاقاتوں میں اُن پر غور کیا گیا اور دیکھا گیا کہ کہاں کہاں دشواریاں پیش آ رہی ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے‘‘۔

یوں، یہ دورہ بڑی حد تک معمول کا ہی دورہ تھا، جس سے دونوں فریقین کو ایک دوسرے کا نقطہٴ نظر سمجھنے میں مدد ملی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا بھی موجود رہی ہے۔ معید یوسف کا کہنا ہے کہ اس بداعتمادی کو دور کرنے کے حوالے سے کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’امریکہ بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن قائم کرنے کیلئے افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے سے مکمل تعاون کرنا ہوگا جس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے‘‘۔

اُنہوں نے کہا کہ اُن کے نزدیک امریکہ کو بھی اب اس بات کا احساس ہے کہ پاکستان طالبان کو امن مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے’’مجبور نہیں کر سکتا‘‘۔

اپنے دورہ پاکستان کے دوران ایلس ویلز نے پاکستانی خارجہ سیکریٹری تہمینہ جنجوعہ، قومی سلامتی کے اُمور کے مشیر لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ناصر جنجوعہ اور پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے اہم ملاقاتیں کرنے کے علاوہ کراچی کا بھی دورہ کیا جہاں اُنہوں نے تاجر برادری سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے امریکی عزم کا اظہار کیا۔

پیر کے روز جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے بعد پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے آرمی چیف کے حوالے سے کہا کہ اُنہوں نے ایلس ویلز سے ملاقات میں اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں اور خاص طور پر افغانستان میں قیام امن کو یقینی بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ تاہم، خطے میں موجود دیگر فریقین کو بھی اس کیلئے یکساں کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس سے قبل، ایلس ویلز جنوری میں بھی پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں، جبکہ پاکستان کی خارجہ سیکریٹری تہمینہ جنجوعہ نے گزشتہ ماہ امریکہ کا دورہ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG